شیعہ کسے کہتے ہیں اور اس سے مراد کیا ہے؟

Mon, 02/05/2018 - 20:28

لوگ اکثر سوال کرتے ہیں کہ شیعہ سے مراد کیا اسکا جواب ذیل کی سطور میں ملاحضہ فرمائیں۔

شیعہ کسے کہتے ہییں اور اس سے مراد کیا ہے؟

شیعہ سے کیا مراد ہے؟
جواب: عربی لغت میں ’’شیعہ‘‘ کے معنی ہیں پیروی کرنے والاجیسا کہ قرآن مجید فرماتا ہے :
( وَإِنَّ مِنْ شِیعَتِہِ لَإِبْرَاہِیم)َ [سورہ صافات آیت ۸۳] اور یقیناان (نوح) کے پیروکاروں میں سے ابراہیم بھی ہیں۔
لیکن مسلمانوں کی اصطلاح میں شیعہ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ پیغمبرؐ نے اپنی وفات سے قبل کئی موقعوں پر اپنے جانشین اور خلیفہ کا اعلان فرمایا تھا ان ہی موقعوں میں سے ایک ہجرت کے دسویں سال کی اٹھارہ ذی الحجہ کی تاریخ بھی ہے۔ جو روز غدیر خم کے نام سے معروف ہے اس دن آنحضرتؐ نے مسلمانوں کے ایک عظیم مجمع میں اپنے جانشین اور خلیفہ کو اپنے بعد مسلمانوں کے لئے ان کے سیاسی، علمی اور دینی امور میں مرجع قرار دیا تھا اس جواب کی مزید وضاحت یہ ہے : پیغمبراکرم[ص] کے بعد مہاجرین اور انصار دو گروہوں میں بٹ گئے :
۱۔ ایک گروہ کا یہ عقیدہ تھا کہ پیغمبر خدا ﷺنے مسئلہ خلافت کو یونہی نہیں چھوڑ دیا تھا بلکہ آپؐ نے اپنے جانشین کو خود معین فرمایا تھا آپؐ کے جانشین حضرت علی بن ابی طالب ۔ ہیں جو سب سے پہلے پیغمبر خداؐ پر ایمان لائے تھے .
مہاجرین اور انصار کے اس گروہ میں بنی ہاشم کے تمام سربرآوردہ افراد اور بعض بزرگ مرتبہ صحابہ جیسے سلمان ، ابوذر، مقداداور خباب بن ارت وغیرہ سرفہرست تھے مسلمانوں کا یہ گروہ اپنے اسی عقیدے پر باقی رہا، اور یہی افراد علی ۔ کے شیعہ کہلائے.
البتہ یہ لقب پیغمبر خداؐ نے اپنی زندگی ہی میں امیر المومنین ۔ کے پیروکاروں کو عطا فرمایا تھا آنحضرت نے حضرت علی بن ابی طالب ۔ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
والذي نفسي بیدہ اِنّ ھذا و شیعتہ لھم الفائزون یوم القیامۃ. [تفسیر درالمنثور جلد ۶] قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدر ت میں میری جان ہے یہ (علی ؑ ) اور ان کے پیروکار قیامت کے دن کامیاب ہوں گے.
اس بنا پر شیعہ صدر اسلام کے مسلمانوں کے اس گروہ کو کہا جاتا ہے جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ منصب ولایت و امامت خدا کی طرف سے معین کیا جاتا ہے اس وجہ سے یہ گروہ اس نام سے مشہور ہوا اور یہ گروہ آج بھی راہ امامت پر گامزن ہے اور اہل بیت پیغمبرؐ کی پیروی کرتا ہے اس وضاحت سے شیعوں کا مرتبہ اور مقام بھی واضح ہوجاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ بعض جاہل یا مفاد پرست افراد کا یہ کلام بھی باطل ہوجاتا ہے کہ شیعیت پیغمبر اکرمؐ کے بعد کی پیداوار ہے تاریخ شیعیت کی مزید اور بہتر شناخت کے لئے ’’اصل الشیعہ و اصولھا‘‘ ’’المراجعات‘‘ اور ’’اعیان الشیعہ ‘‘ جیسی کتابوں کا مطالعہ مفید ثابت ہوگا.
۲۔دوسرے گروہ کا عقیدہ یہ تھا کہ منصب خلافت، انتخابی ہے اور اسی لئے انہوں نے حضرت ابوبکر کی بیعت کی اورمدتوں بعد یہی گروہ’’اہل سنت‘‘ یا تسنن کے نام سے مشہور ہوا اور نتیجہ میں ان دو اسلامی گروہوں کے درمیان بہت سے اصولوں میں مشترک نظریات ہونے کے باوجود مسئلہ خلافت اور جانشینی پیغمبر اکرمؐ کے سلسلے میں اختلاف ہوگیا۔ واضح رہے کہ ان فرقوں کے بانی افراد مہاجرین اور انصار تھے.
ماخذ:(۱) تفسیر درالمنثور جلد ۶ جلال الدین سیوطی نے سورۂ بینہ کی ساتویں آیت(إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُوْلٰءِکَ ہُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّۃِ ) کی تفسیر میں یہ حدیث نقل کی ہے.

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
8 + 0 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 26