نظریۂ عدالت صحابہ اور بعض صحابہ کا کردار

Fri, 07/26/2019 - 23:13

شیعہ عقیدے کے مطابق رسول اللہ کے صحابہ دوسرے افراد کی مانند ہیں صرف صحابی ہونے کی بنا پر انکی عدالت ثابت نہیں ہوتی ہے نظریہ ٔعدالت صحابہ کی بنا پر کہنا چاہئے کہ اگر صحابی ہونا گناہ سے مانع ہے تو پھر عبیداللہ بن جحش ، عبیداللہ بن خطل ،ربیعہ بن امیہ بن خلف اور اشعث بن قیس جیسے اصحاب مرتد کیوں ہو گئے۔

نظریۂ عدالت صحابہ اور بعض صحابہ کا کردار

شیعہ اور بعض اہل سنت علماء اس بات کے معتقد ہیں کہ بعض صحابہ کا کردار تمام صحابہ کی عدالت کے نظریے کو رد کرتا ہے سید محسن امین، کے مطابق عبیداللہ بن جَحش، عبیداللہ بن خطل، ربیعہ بن امیہ اور اشعث بن قیس صحابہ میں سے تھے لیکن مرتد ہو گئے تھے۔[امین، اعیان الشیعۃ، ۱۴۱۹ق/۱۹۹۸م، ج۱، ص۱۶۳۔] اسی طرح صحیح بخاری میں نقل شدہ بعض احادیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ نے اپنے اصحاب میں سے بعض کے مرتد ہونے کی خبر دی ہے۔[بخاری، صحیح البخاری، ۱۴۲۲ق، ج۸، ص۱۲۱، ح۶۵۸۵۔]اس کے علاوہ تاریخ  کی کتابوں میں بعض تاریخی قرائن و شواہد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بعض صحابہ سے ان کی عدالت کے برخلاف امور سرزد ہوئے ہیں جیسے شراب پینا، سَبّ علی، امام عادل کے خلاف قیام اور مسلمانوں کا بے خطا قتل و غارت۔ من جملہ یہ کہ بُسر بن اَرطاہ نے تقریبا 30 ہزار سے زیادہ شیعیان امام علیؑ کو قتل کیا،[ ابن اعثم کوفی، الفتوح، ۱۴۱۱ق/۱۹۹۱م، ج۴، ص۲۳۸۔] مغیرہ بن شعبہ نے تقریبا 9 سال تک امام علیؑ پر منبر سے سَبّ کیا،[بلاذری، أنساب الأشراف، ۱۴۰۰ق/۱۹۷۹م، ج۵، ص۲۴۳۔] خالد بن ولید نے مالک بن نُوَیرہ کو قتل کیا پھر اسی رات ان کی بیوی سے ہم بستری کی[ابن حجر عسقلانی، الاصابہ، ۱۴۱۵ق، ج۵، ص۵۶۱۔] اور ولید بن عقبہ شراب کے نشے میں مست رہنا شامل ہے۔[ ابن حجر عسقلانی، الاصابہ، ۱۴۱۵ق، ج۶، ص۴۸۲۔] شافعی سے منقول ہے کہ پیغمبر اکرمؐ کے صحابہ میں سے معاویۃ بن ابوسفیان، عمرو بن عاص، مغیرۃ بن شعبہ اور زیاد بن ابیہ کی گواہی قابل قبول نہیں ہے۔[ابوریۃ، شیخ المضیرۃ ابوہریرۃ، دار المعارف، ص۲۱۹۔]اسی طرح جنگ جمل میں ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کرنا جس میں دونوں گروہ صحابہ تھے، اس نظریے کے ساتھ سازگار نہیں ہے؛ ابن ابی الحدید معتزلی جنگ جمل کے مسببین کو جہنمی جانا ہے اور ان میں سے صرف عایشہ، طلحہ اور زبیر کو توبہ کرنے کی وجہ سے مستثناء قرار دیا ہے، اسی طرح جنگ صفین میں شام کے لشکر کو بھی بغاوت کی وجہ سے جہنمی شمار کیا ہےساتھ ہی خوارج کو بھی اہل دوزخ میں گردانہ ہے۔[ابن ابی‌الحدید، شرح نہج‌البلاغہ، ۱۳۷۸-۱۳۸۴ق، ج۱، ص۹۔]۔
منابع:امین، سید محسن، اعیان الشیعۃ، تحقق حسن امین، بیروت، دار التعارف، ۱۴۱۹ق/۱۹۹۸ء۔بخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح البخاری، تحقیق دار طوق النجاۃ، ۱۴۲۲ق۔ابن اعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، تحقیق علی شیری، بیروت، دار الاضواء، ۱۴۱۱ق/۱۹۹۱ء۔بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، تحقیق احسان عباس، بیروت، جمعیۃ المستشرقین الالمانیہ، ۱۴۰۰ق/۱۹۷۹ء۔ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، الاصابۃ فی تمییز الصحابہ، تحقیق عادل احمد عبد الموجود، علی محمد معوض، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، ۱۴۱۵ق۔ابو ریۃ، محمود، شیخ المضیرۃ ابو ہریرۃ، مصر، دار المعارف، بی‌تا۔ابن ابی‌ الحدید، عبد الحمید، شرح نہج البلاغۃ، بہ کوشش محمد ابو الفضل ابراہیم، قاہرہ، ۱۳۷۸-۱۳۸۴ق/۱۹۵۹-۱۹۶۴ء۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
4 + 1 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 47