امام زمان (عج)کے ساتھ ملاقات

Sun, 04/16/2017 - 11:02

 امام زمان (عج)کے ساتھ ملاقات 

 امام زمان (عج)کے ساتھ ملاقات 

علامه مجلسي (ره)  اپنے والد بزرگوار سے نقل کرتے ہیں:میرے والد محترم نے بتایا کہ ہمارے زمانے میں ایک صالح اور مؤمن شخص تھا جس کا نام امیر اسحق استر آبادی تھا کہ جنہوں نے چالیس حج پیدل کیے تھے ، اور لوگوں کے درمیان بہت مشہور ہو گیا تھا کہ یہ طی الارض کرتے ہیں یعنی چند فرسخ فاصلے کو ایک لحظہ میں طے کر لیتے ہیں، ایک مرتبہ وہ اصفہان تشریف لائے اور میں ان سے ملنے کے لئے گیا اور خیریت دریافت کی اور پوچھا:کیا آپ طی الارض  کرتےہیں کیونکہ ہمارے درمیان بہت مشہور ہو چکا ہے ؟جواب میں کہا:میں ایک سال حج کے لئے قافلے کے ساتھ جا رہا تھا کہ ایک جگہ پر پہنچے تو وہاں مکہ مکرمہ تقریباً 50 فرسخ سے زیادہ رہتا تھا میں قافلے سے پیچھے رہ گیا اور آہستہ آہستہ قافلے سے بچھڑ گیا ، اور اصلی راستہ بھی گم کر دیا تھا اور میں بہت پریشان تھا اور مجھ پر پیاس کی شدت بڑھ چکی تھی اور میں اپنی زندگی سے مایوس ہوا اور میں نے فریاد کی:يا اباصالح! يا اباصالح! (یاامام زمان)! مجھےمیرے راستےکی طرف ہدایت فرمائے.اچانک میں نے محسوس کیا اور دور سے کسی کو اپنی طرف آتے  ہوئے دیکھا اور وہ جونہی میرے قریب ہوا، دیکھا ایک خوبصورت جوان جس کا رنگ گندمی تھا، اور صاف ستھراء لباس زیب تن کیا ہوا تھا ، اس کے چہرے سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ کوئی بزرگ ہیں، اونٹ پر سوار تھا اس کے ساتھ  ایک پانی کا ظرف بھی تھا، میں سلام کیا اور میرے سلام کا جواب دیا اور پوچھا:پیاسے ہو؟ جی ہاں!مجھے پانی دیا اور  پھر مجھ سے کہا:کیا تم قافلے تک پہنچنا چاہتے ہو؟ جی ہاں! مجھے اپنے پیچھے اونٹ پر سوار کیا اور مکہ کی جانب چلے، میری عادت یہ تھی کہ میں روزانہ دعائے حرز یمانی پڑھتا تھا، میں حرزیمانی کو پڑھنے میں مصروف ہو گیا اور میری بعض جگہ پر تصحیح کی کہ ایسے پڑھو.زیادہ دیر نہیں ہوئی کہ مجھ سے پوچھا؟اس جگہ کو جانتے ہو؟میں نے جب دیکھا تو ہم مکہ مکرمہ میں پہنچ چکے تھے .مجھے امر فرمایا: آپ اتریں!میں جب اترا وہ واپس پلٹے اور میں نے جب دیکھا تو مجھے کچھ نظر آیا اور میں نے سمجھ لیا تھا کہ یہ حضرت قائم (عج) ہیں.ان کے فراق پر اور دوسرے یہ کہ میں ان کو نہیں پہچان پایا بہت افسوس ہے،تقریباً سات دن گزرنے کے بعد ہمارا قافلہ مکہ مکرمہ میں آپہنچا.قافلہ والے میرے زندہ رہنے سے مایوس ہو چکے تھے ، اچانک جب مجھے دیکھا تو اسی دن سے میں لوگوں میں مشہور ہوا کہ میں طی الارض کرتاہوں.
علامه مجلسي (ره) نے آخر میں اظھار کیا کہ میرے والد نے مجھے فرمایا:
دعائے حرز یمانی کو ان کے پاس پڑھو اور اس کی تصحیح کرو ، میں شکر کرتا ہوں کہ انہوں نے مجھے پڑھنے کی اور تصحیح کرنے کی اجازت دی.                                                    
                           بحار الانوار ج 52، ص 175                                             
 

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
1 + 8 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 27