کیا پیغمبر اسلام مسموم دنیا سے گئے؟

Sun, 04/16/2017 - 11:11

چکیده:مقالہ ھذا میں ان روایات کو جمع کیا گیا ہے جو پیغمبر اسلام کی شہادت پر دلالت کرتی ہیں، قابل ذکر بات یہ ہے کہ اکثر روایات شیعہ اور سنی کی اہم کتابوں سے جمع کی گئی ہیں۔

کیا پیغمبر اسلام مسموم دنیا سے گئے؟

کیا پیغمبر اسلام مسموم دنیا سے گئے؟

تاریخ اسلام کی پیچیدگیوں میں سے ایک پیچیدگی یہ بھی ہے کہ بہت سی چیزیں اور واقعات ہمارے لئے واضح اور روشن نہیں ہیں ،جس کی وجہ سے کسی چیز کے  بارے میں قضاوت کرنا بہت ہی مشکل ہوجاتا ہے ، پیغمبر اسلام کی زندگی کے کچھ پہلو بھی اس قاعدہ سے مستثنا نہیں ہیں ، پیغمبر اسلام کی زندگی کے کچھ پہلو ایسے  ہیں جس کے بارے میں قطعی نظر دینا مشکل معلوم ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جہاں ہادی دو عالم کی تاریخ ولادت میں شیعہ سنی کا اختلاف نظر ہے وہیں ان کی وفات و شہادت کے بارے میں بھی اختلاف نظر پایا جاتا ہے، اختلاف اس بارے میں پایا جاتا ہے کیا پیغمبر خدا کو شہید کیا گیا ، کیا  جام شہادت نوش فرما کر آپ شہید ہوئے یا آپ ایک خاص مرض میں مبتلا تھے کہ جسکی وجہ سے آپ کی روح قبض ہوئی اور آُ پ کی وفات ہوئی ؟۔

پیغمبر اسلام کی شہادت یا وفات کے بارے میں مسلمان علماء اور محققین کے درمیان اس مسئلہ میں اختلاف پایا جاتا ہے بہت سے شیعہ اور سنی علماء اس بات کے قائل ہیں کہ پیغمبر اسلام کی زندگی کے آخری ایام میں آپ کو زہر دیا گیا تھا اوراسی  زہر نے آپ کے بدن پر اثر کیا جس کی وجہ سے آپ کی شہادت واقع ہوئی۔

اہل سنت کے مشہور و معروف عالم دین حاکم نیشاپوری اپنی کتاب المستدرک علی الصحیحین میں فرماتے ہیں: ’’حدثنا داود بن يزيد الأودي قال سمعت الشعبي يقول والله لقد سم رسول الله صلى الله عليه وسلم وسم أبو بكر الصديق وقتل عمر بن الخطاب صبرا وقتل عثمان بن عفان صبرا وقتل علي بن أبي طالب صبرا وسم الحسن بن علي وقتل الحسين بن علي صبرا رضي الله عنهم فما نرجو بعدهم.‘‘[1]

داؤد بن یزید کہتا ہے کہ شعبی سے میں نے سنا کہ وہ کہہ رہا تھا: خدا کی قسم رسول اسلام اور ابوبکر زہر سے قتل کیے گئے ہیں اور عمر، عثمان اور علی تلوار کے ذریعہ قتل کئے گئے اور حسن بن علی زہر سے اور حسین بن علی تلوار سے شہید کئے گئے ہیں۔

اسی طرح اہل سنت کے بہت سے علما ءنے اسی مطلب کو عبد اللہ بن مسعود سے نقل کیا ہے:

’’حدثنا عبد اللَّهِ حدثني أبي ثنا عبد الرَّزَّاقِ ثنا سُفْيَانُ عَنِ الأَعْمَشِ عن عبد اللَّهِ بن مُرَّةَ عن أبي الأَحْوَصِ عن عبد اللَّهِ قال لأَنْ أَحْلِفَ تِسْعاً ان رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُتِلَ قَتْلاً أَحَبُّ الي من أَنْ أَحْلِفَ وَاحِدَةً انه لم يُقْتَلْ وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ جَعَلَهُ نَبِيًّا وَاتَّخَذَهُ شَهِيداً.‘‘[2]

عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ وہ کہتا ہے: اگر ۹بار میں قسم کھاؤں کہ رسول شہید ہوگئے بہتر ہے کہ میں ایک بار قسم کھاؤں کہ رسول شہید نہیں ہوئے ہیں بلکہ خدا نے آپ نے کو نبی قراردیا اور شہادت کو آپ کے لئے انتخاب کیا ہے۔

ہیثمی اس روایت کو نقل کرنے کے بعد کہتا ہے: ’’رواه أحمد ورجاله رجال الصحيح‘‘.[3]

احمد نے اسکو نقل کیا ہے اور اسکے تمام راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں

حاكم نيشابورى اس روایت کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں: ’’هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه.‘‘[4]

یہ حدیث بخاری اور مسلم  کے نزدیک شرائط صحت کے مطابق ہے جبکہ ان دونوں ہی نے اپنی کتابوں میں اس روایت کو نقل نہیں کیا ہے۔

اور شیعہ علما ءمیں سے شیخ مفید رضوان اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ’’رسول الله صلى الله عليه وآله محمد بن عبد الله... وقبض بالمدينة مسموما يوم الاثنين لليلتين بقيتا من صفر....‘‘[5]

رسول خدا صلي الله عليه وآله دوشنبہ کے روز ۲۸ صفر، مدینہ میں اس عالم میں کہ آپ مسموم تھے آپ کی روح قبض ہوئی۔

مرحوم شيخ طوسى اپنی کتاب كتاب تهذيب الأحكام میں رقم طراز ہیں : محمد بن عبد الله... وقبض بالمدينة مسموما يوم الاثنين لليلتين بقيتا من صفر سنة عشرة من الهجرة.[6]

رسول خدا صلي الله عليه وآله دوشنبہ ۲۸ صفرسن ۱۰ ہجری قمری کو مدینہ میں اس عالم میں کہ آپ کی روح قبض ہوئی کہ آپ  مسموم تھے ۔

نيز مرحوم علامه حلى اپنی کتاب تحرير الأحكام میں لکھتے ہیں:’’محمد بن عبد الله... وقبض بالمدينة مسموما يوم الاثنين لليلتين بقينا من صفر سنة عشرين من الهجرة.‘‘[7]

لیکن کب اور کس شخص نے آپ کو زہر دیا ہے یہ بھی بہت سی چیزوں کی طرح ہمارے لئے مشخص نہیں ہے۔

محمد بن اسماعيل بخارى اپنی کتاب صحیح میں لکھتے ہیں کہ:

قالت عَائِشَةُ رضي الله عنها كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول في مَرَضِهِ الذي مَاتَ فيه يا عَائِشَةُ ما أَزَالُ أَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الذي أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ فَهَذَا أَوَانُ وَجَدْتُ انْقِطَاعَ أَبْهَرِي من ذلك السُّمِّ.[8]

عائشہ کہتی ہیں کہ رسول خدا عالم مرض میں فرماتے تھے کہ میں  ابھی تک اس غذا کے درد کو محسوس کر رہا ہوں جو خیبر میں کھائی تھا اور اب محسوس کر رہا ہوں اس غذا کے ذریعہ میرے دل  کے ٹکڑے ٹکڑے ہو رہے ہیں۔

شاید کوئی یہ کہے کہ ایسا کون سا زہر تھا جس نے پیغمبر اسلام پر ۴ سال بعد اثر کیا اور اس کے علاوہ تاریخ اسلام کی دوسری کتابوں اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام جنگ خبیر میں مسموم غذا کھانے سے پہلے اسکی مسمومیت سے آگاہ ہو چکے تھے۔ جیسا کہ ابن کثیر دمشقی لکھتے ہیں:

وفي صحيح البخاري’’ «عن ابن مسعود قال: لقد كنا نسمع تسبيح الطعام وهو يؤكل» يعني بين يدي النبي وكلمه ذراع الشاة المسمومة وأعلمه بما فيه من السم‘‘[9]

صحیح بخاری میں ابن مسعود سے نقل ہوا ہے کہ وہ کہتا ہے : ہم نے اس غذا سے  تسبیح خدا کی آواز سنی جسے  پیغمبر اسلام اسے تناول فرما نا چاہ رہے تھے، یعنی پیغمبر اسلام کے سامنے زہر آلود گوشت کلام کر رہا تھا اور اپنے مسموم ہونے کی خبر دے رہا تھا۔

نتیجتاً کس نے پیغمبر اسلام کو زہر دیا؟ اور کب دیا؟ ہمارے لئے واضح و روشن نہیں ہے۔  

................................................................................

حوالہ جات:

[1]المستدرك علي الصحيحين، ج3، ص61، ح4395،

[2] المصنف، ج5، ص269،

[3] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، ج9، ص34،

[4] الحاكم النيسابوريالمستدرك علي الصحيحين، ج3، ص60، ح4394

[5] المقنعة، ص456.

[6] تهذيب‏الأحكام، ج6 ص2.

[7] تحرير الأحكام، ج2 ‍

[8] صحيح البخاري، ج4، ص1611، ح4165

[9] البداية والنهاية،ج 6، ص286.

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
15 + 0 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 11