الہام، وحی اور تحدیث کا باہمی تعلق اور فرق

Sun, 04/16/2017 - 11:16

خلاصہ: حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) کے خطبہ فدکیہ کی تشریح کرتے ہوئے یہ آٹھواں مضمون ہے۔ وحی کا تعلق نبوت سے ہے، الہام معصوم اور غیر معصوم شخص پر ہوسکتا ہے مگر پھر بھی کچھ فرق ہے جسے بیان کیا جائے گا اور تحدیث، ملائکہ کا بلندرتبہ انسانوں سے کلام کرنے کو کہا جاتا ہے، اسی لیے حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) محدثہ ہیں۔

الہام، وحی اور تحدیث کا باہمی تعلق اور فرق

بسم اللہ الرحمن الرحیم

خطبہ فدکیہ کی تشریح کرتے ہوئے یہ آٹھواں مضمون پیش کیا جارہا ہے۔ حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) جب اپنے بابا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد میں عزت و عظمت کے ساتھ داخل ہوئیں تو گریہ کرنے لگیں، لوگ بھی آپؑ کے گریہ کی وجہ سے رونے لگے، جب لوگ خاموش ہوگئے تو آپؑ نے خطبہ شروع کرتے ہوئے اللہ کی حمد و ثناء کی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر صلوات بھیجی، یہ سن کر لوگ دوبارہ رونے لگ گئے، جب انہوں نے خاموشی اختیار کی تو آپؑ نے دوبارہ اپنا خطبہ آغاز کیا، راوی کا کہنا ہے: "فَقالَتْ: اَلْحَمْدُلِلّهِ عَلی ما أنْعَمَ وَ لَهُ الشُّكْرُ عَلی ما أَلْهَمَ"…[1]، "آپؑ نے فرمایا: ساری حمد (تعریف) اللہ کے لئے ہے ان نعمتوں پر جو اس نے عطا فرمائیں اور صرف اس کا شکر ہے اس (اچھی سمجھ) پر جو اس نے الہام کی (دل میں ڈالی) "…۔ یہ مضمون "عَلی ما أَلْهَمَ" سے ماخوذ لفظ "الہام" پر تحریر کیا جارہا ہے اور الہام کے مفہوم پر پچھلا مضمون پیش کیا جاچکا، اب وحی، الہام اور تحدیث کا باہمی تعلق اور فرق پر گفتگو ہورہی ہے۔
الہام کے بارے میں علامہ قرشی تحریر فرماتے ہیں کہ" لھم" کے مادہ سے نکلنے کے معنی میں ہے، "لَهِمَ الشّى‌ء لَهماً: اِبْتَلَعَهُ بِمَرَّة"۔ الہام خاص تفہیم ہے اللہ کی طرف سے یا اس فرشتہ کی طرف سے جسے اللہ نے حکم دیا ہے۔ راغب کا کہنا ہے کہ الہام دل میں کسی چیز کا القاء کرنا ہے اور اسے اللہ کی طرف سے اور ملاء اعلی سے ہونا چاہیے جیسے حضرت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ) کا فرمان ہے: "إِنَّ الرُّوحَ الْأَمِينَ نَفَثَ فِي رُوحي[2]"۔ الہام سے مشتق لفظ قرآن کریم میں صرف ایک بار ذکر ہوا ہے: "فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا"[3]، "پھر اسے اس کی بدکاری اور پرہیزگاری کا الہام (القاء) کیا"۔ البتہ قرآن کریم میں الہام یا دل میں القاء ہونے کو بھی وحی کہا گیا ہے جیسا کہ حضرت موسی (علیہ السلام) کی والدہ کو الہام ہوا[4]، ایسے مقامات پر وحی کے لغوی معنی یعنی اطلاع اور خفیہ تفہیم مراد ہے، نیز قرآن مجید میں بعض مقاموں پر الہام مراد لیا گیا ہے جبکہ اس کے بارے میں وحی کا لفظ بھی استعمال نہیں ہوا، جیسا کہ جو الہام حضرت خضر[5] اور حضرت ذوالقرنین[6]  کو ہوا ہے۔
الہام اور وحی میں دیگر چند فرق: اولیاء پر ہونے والی وحی اور الہام کی حقیقت ہمارے لیے واضح نہیں ہے کیونکہ ہم نہ وحی کی حقیقت کا ادراک کرسکتے ہیں اور نہ الہام کی حقیقت کا لہذا ان دونوں کا آپس میں موازنہ کرتے ہوئے ان کی حقیقت کو نہیں پہچان سکتے، لیکن اس کے باوجود ان کی بعض صفات کو جو روایات اور مطالعات سے حاصل ہوتی ہیں، بیان کیا جاسکتا ہے:
۱۔ وحی نبوت سے مختص ہے اور الہام کا ولایت سے تعلق ہے جیسا کہ جناب ابن عباس نے نقل کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ آپؐ فرماتے تھے: "أعطاني الله تعالى خمسا وأعطى عليا خمسا وأعطاني الوحي وأعطاه الالهام [7]"، "اللہ تعالی نے مجھے پانچ چیزیں عطا کیں اور علیؑ کو پانچ چیزیں عطا کیں … مجھے وحی عطا کی اور علیؑ کو الہام عطا کیا"۔
۲۔ وحی کا ماخذ ہمیشہ پیغمبر کے لئے واضح ہے کہ وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے، لیکن اگر الہام حاصل کرنے والا معصوم نہ ہو تو الہام کا ماخذ مکمل طور پر واضح نہیں ہوتا اور اس کے ماخذ سے مطلع نہیں ہوتا، لہذا کچھ معیاروں کی ضرورت ہے تب ثابت ہوسکتا ہے کہ یہ الہام، اللہ کی جانب سے ہے۔
۳۔ وحی، احکام اور معارف پر مشتمل ہوتی ہے جو انسان کے معنوی کمال و ترقی کے لئے فائدہ مند ہے، اسی لیے پیغمبر کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اسے لوگوں تک پہنچائے، لیکن الہام انفرادی چیز ہے کہ جس شخص پر ہو اسے یہ ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ اسے چاہیے کہ دوسروں تک ان حقائق کو پہنچائے۔
۴۔ وحی خود، دیگر معارف کو پرکھنے کا میزان اور معیار ہے، لیکن الہام کے مواد کی شریعت کے ضوابط کے معیاروں کے مطابق جانچ پڑتال کرنا چاہیے۔
۵۔ وحی سب انبیاء کے لئے حجت اور حق ہے، لیکن الہام دو طرح کا ہوتا ہے: معصوم کو الہام اور غیر معصوم کو الہام۔ معصوم پر الہام، اولیاء اللہ کی عصمت کی وجہ سے دوسروں کے لئے حجت اور حق ہے، لہذا جو الہامات غیرمعصوم عارف اور دیندار لوگوں کو ہوتے ہیں، اولیاء کے الہام کے ہم پلہ نہیں ہوتے۔
۶۔ وحی اور الہام کا فرق اس بات میں نہیں ہے کہ وحی، اللہ کے فرشتہ کے ذریعہ نازل ہوتی ہے اور الہام بلاواسطہ، کیونکہ الہام کبھی فرشتہ کے ذریعہ تفہیم اور القاء ہوتا ہے، بلکہ ان دونوں کا باہمی فرق، مواد کے لحاظ سے ہے۔
الہام،تحدیث اور وحی میں فرق: یقیناً انسان کا ذہن اس طاقت کا حامل ہے کہ معلومات کے حقائق اس میں منتقل ہوں، لیکن کچھ پردے، حقیقت کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے ماخذ کا ادراک اور اس سے اتصال کرنے سے رکاوٹ بنتے ہیں، اس ماخذ کو شریعت کے الفاظ میں لوح کہا جاتا ہے۔ انسان کا ذہن لوح میں مندرجہ حقائق کے سامنے دو آئینوں کی طرح ہے جو ایک دوسرے کے آمنے سامنے قرار پاتے ہیں، اب وہی پردہ اِن دو آئینوں کے درمیان رکاوٹ ہے۔ کبھی یہی پردہ، استدلال اور تعلیم حاصل کرنے (کہ جسے اعتبار اور استبصار کہا جاتا ہے اور علماء سے مختص ہے) کے ذریعے ہٹ جاتا ہے اور حقیقت کا ادراک ہوجاتا ہے اور کبھی دل پر ہجوم لانے سے۔ دل میں القاء ہونے سے اگر القاء کرنے والے کی کوئی اطلاع نہ ملے، یعنی جو فرشتہ دل میں بات کو ڈالتا ہے اگر دکھائی نہ دے تو اسے الہام کہا جاتا ہے اور روع (دل) میں نفث کہا جاتا ہے۔ فرشتہ سے گفتگو اگر کان سے سنائی دے تو وہ ائمہ ہدی اور اُن اولیاء (جیسے سلمان کہ حدیث میں ہے کہ سلمان محدث تھے)کی مختص صفات میں سے ہے جو ان کے انوار سے اقتباس کرتے ہیں اور اگر فرشتہ دکھائی دے تو اسے وحی کہا جاتا ہے[8]۔ بنابریں جس سے ملائکہ کلام کریں اسے محدث کہا جاتا ہے اور اس چیز کو تحدیث کہاجاتا ہے۔ جیسا کہ حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) کے بارے میں حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "فاطمه بنت رسول‏ اللّه (صلى الله علیه وآله) کانت محدثه و لم تکن نبیہ، انما سمیت فاطمه محدثه، لان الملائکه کانت تهبط من السماء فتنادیها- کما تنادى مریم بنت عمران-: یا فاطمه ان اللَّه اصطفاک و طهرک و اصطفاک على نساءالعالمین، یا فاطمه اقنتى لربک واسجدى وارکعى مع الراکعین فتحدثهم و یحدثونها[9]"، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) کی بیٹی فاطمہ محدثہ تھیں اور نبی نہیں تھیں، بیشک فاطمہؑ، محدثہ کہلائیں کیونکہ ملائکہ آسمان سے نازل ہوتے اور آپؑ سے اسی طرح گفتگو کرتے جیسے مریم بنت عمران سے گفتگو کرتے: اے فاطمہ، بے شک اللہ نے آپؑ کو منتخب کر لیا ہے اور آپؑ کو پاک و پاکیزہ بنایا ہے اور آپؑ کو تمام جہانوں کی عورتوں سے برگزیدہ بنا دیا ہے۔ اے فاطمہ اپنے پروردگار کی اطاعت کریں اور سجدہ کریں اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کریں، تو آپؑ ملائکہ سے گفتگو کرتیں اور ملائکہ آپؑ سے گفتگو کرتے"…۔
نتیجہ: الہام ایسی بات ہے جو دل میں اترتی ہے اور معصوم اور غیرمعصوم شخص کے دل میں اتر سکتی ہے، لیکن وحی، نبوت سے مختص ہے اور الہام ولایت سے متعلق ہے اور کیونکہ ولایت جاری ہے تو ولایت کی خاص صفات اور الہام بھی جاری ہے۔ ملائکہ کا بلندرتبہ انسان سے کلام کرنے کو تحدیث کہا جاتا ہے، جیسے حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) سے ملائکہ کلام کرتے تھے اسی لیے آپؑ کا ایک لقب محدثہ ہے۔ روایات کی روشنی میں الہام اور تحدیث کے ذریعے حاصل ہونے والے علم کے درمیان فرق پایا جاتا ہے کہ فرشتہ کے کلام کرنے کو "تحدیث" اور "نقر فی الاسماع" اور دل میں القاء ہونے کو "الہام" کہا گیا ہے۔ معصومین (علیہم السلام) تحدیث کے ماخذ سے بھی منسلک ہیں اور ان پر الہام بھی ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
[1] احتجاج، طبرسی، ج1، ص131، 132۔
[2] قاموس قرآن، علی اکبر قرشی بنایی، ج6، ص211۔
[3] سورہ شمس، آیت 8۔
[4] سورہ قصص، آیت 7، سورہ طہ، آیت 38، 39۔
[5] سورہ کہف، آیت 65۔
[6] سورہ کہف، آیت 83- 98۔
[7] بحارالانوار، علامہ مجلسی، ج38، ص157۔
[8] شرح خطبه حضرت زهرا(سلام الله عليها)، آيت‌الله العظمي سيد عزالدين حسيني زنجانى، ج1، ص55 سے اقتباس
[9] علل الشرائع، ص 182؛ بحارالانوار، ج 14، ص 206۔                       

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
3 + 1 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 27