جناب بلال

Sun, 04/16/2017 - 11:16

خلاصہ: حضرت بلال، اسلام کے بہلے مؤذن تھے، آپ نے اسلام قبول کرنے کے بعد بہت زیادہ مشقتین برداشت کیں یہاں تک کہ رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) کی وفات کے بعد آپ کو شام بھیج دیا گیا۔

جناب بلال

بسم اللہ الرحمن الرحیم                               
     بلال ابن رباح پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے بڑے صحابیوں میں سے تھے جنھوں نے اپنے دین کو بچانے کے لئے بہت زیادہ مشکلات کا سامنہ کیا، جناب بلال کی کنیت عبداللہآپ مکہ میں پیدا ہوئے اور طایفۂ بنی جمح کے غلاموں میں سے تھے، اصل میں آپ حبشہ کے تھے[۱]۔
     رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) مبعوث ہونے کے بعد ایک رات جناب بلال رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) کی خدمت میں پہونچے اور اپنی حبشی زبان میں کہا: اَرَه بَرَهْ کَنْکَرَهْ کِرا کِري مِنْدَرَهْ، رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ نے جناب حسان سے فرمایا:"بلال کے کلام کو عربی میں ترجمہ کرو"۔ حسان نے اس کا ترجمہ اس طرح کیا: اذا المکارم فی آفاقنا ذکرت فانما بک فینا یضرب المثل؛ جس وقت ہمارے ديار ميں بہترين پسنديدہ خوبيوں کے متعلق پوچھا گيا تو ہم آپ کو اپنا شاھد گفتار بناتے ہیں[۲]، اسی وقت آپ نے اسلام کو قبول کیا لیکن آپ نے اپنے ایمان کو مشرکوں سے چھپا کر رکھا اور مخفی طور پر حضرت سے آکر ملاقات کیا کرتے تھے لیکن جب امیۃ(جناب بلال کا مالک) کو جناب بلال کے اسلام قبول کرنے کی خبر موصول ہوئی تو وہ جناب بلال پر بہت زیادہ غصہ ہوا[۳]۔
     ایک دن جناب بلال کعبہ کے قریب آئے، اس وقت قریش، کعبہ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ جناب بلال نے بہت احتیاط کے باوجود ان لوگوں کو نہیں دیکھا، آپ ان بتوں کے قریب گئے اور کہا: لوگوں پر تعجب ہے کہ ان بے روح مجسموں کی پرستش کرتے ہیں جو بت ان کے لئے کچھ بھی نہیں کرسکتے، یقینا تمھاری پرستش کرنے والے نقصان اٹھانے والوں میں سے ہیں، وہ مشرک جو کعبہ کے  پیچھے سے جناب بلال کو دیکھ رہے تھے  ان سب لوگوں نے جناب بلال پر حملہ کیا، جناب بلال اپنے آپ کو بچانے کے لئے وہاں سے بھاگ کر اپنے مالک کے گھر آئے۔ سب لوگ وہاں پر جمع ہوگئے اور جناب بلال کے مالک سے کہا کہ تمھارے غلام نے ایسا کیا ہے، اس وقت جناب بلال کے مالک امیہ ابن خلف نے کہا: محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے اس پر سحر(جادو ) کردیا ہے میں نے بلال کو برہنہ کرکے گرم تپنی ہوئی ریت پر لٹایا یہاں تک کہ اس کے جسم کی کھال زخمی ہوگئی لیکن اس نے محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) کا انکار نہیں کیا، میں نے اسے اتنا پیاسہ رکھا کے پیاس کی وجہ سے اس کی زبان باہر آگئی لیکن وہ اپنے عقیدہ سے منحرف نہیں ہوا۔ امیہ ابن خلف کہتا ہے کہا میں نے بلال کے بدن کو جتنا زخمی دیکھا، کسی اور کے بدن کو اتنا زخمی نہیں دیکھا اس کے باوجود اس کے دل سے محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی محبت ختم نہیں ہوئی[۴]۔
     مدینہ ہجرت کے بعد آپ رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے مخصوص مؤذن ہوگئے اور وہ اسلام کی بہلی فرد تھے جس نے اذان دی، انہوں نے جنگ بدر اور احد میں  پیغمبر اسلام(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے ساتھ شرکت کی تھی اور ہمشیہ حضرت کے ساتھ رہا کرتے تھے رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی وفات کے بعد جناب بلال شام کی طرف چلے گئے اور وہیں پر ایک رات رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو خواب میں دیکھا کہ حضرت، جناب بلال سے فرمارہے ہیں کہ کیوں میرے حق میں جفا کر رہے ہو  کیوں میری زیارت کے لئے نہیں آتے، جب آپ نیند سے بیدار ہوئے تو آپ نے ارادہ کیا کہ رسول خدا(صلی اللہ علیہ  وآلہ و سلم) کی زیارت کے لئے جائینگے اور جب حضرت کی زیارت کی غرض سے مدینہ میں داخل ہوئے تو امام حسن اور امام حسین(علیہما السلام) آپ کے استقبال کے لئے آئے اور کچھ دن بعد وہ مدینہ سے واپس ہوگئے اور وہیں پر آپ کا انتقال ہوگیا اور آپکی قبر دمشق کے "باب الصغیر" میں ابھی بھی موجود ہے[۴]۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حولے:
[۱] سیدمحسن الامین العاملی، اعیان الشیعه، ج۱۴، ص۱۶۰.
[۲] فخر الدين بن محمد طريحي، مجمع البحرين، مرتضوى - تهران، تیسری چاپ،ج۵، ص۲۲۵، ۱۲۷۵ش.
[۳]سیدمحسن امین، اعیان الشیعه، ج ۳، ص ۶۰۴۔
[۴] عباس عبدالحلیم، اصحاب محمد(ص)، ص۵۳-۵۶.
[۴] گذشتہ حوالہ، ص۶۰۱۔ عزالدین ابوالحسن علی بن محمدبن الاثیر، اسد الغابه فی معرفه الصحابه، ج۱، ص۲۰۶.
منبع: http://rasekhoon.net/article/show/703518

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
13 + 5 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 38