اسلام کی پہلی اذان

Sun, 04/16/2017 - 11:16

خلاصہ: اذان، اسلام کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اور اس کے سب سے پہلے مؤذن حضرت بلال حبشی تھے جنھوں نے رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے حکم سے اذان دی۔

اسلام کی پہلی اذان

     سب سے پہلے انسانوں کی جنس میں سے جس نے اذان دی ان کا نام بلال ابن رباح تھا اور معروف تھے بلال حبشی کے نام سے، زید ابن ثابت کے گھر کے اوپر کھڑے ہوکر اذان دیا کرتے تھے اور اسی طرح فرشتوں میں سے سب سے پہلے جس نے اذان دی ان کا نام جبرائیل (علیہ السلام) تھا۔ معراج پر پیامبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے جو نماز پڑھائی اس کے لیے اذان دی اور جس جگہ یہ اذان دی اسے بیت المعمور کہا جاتا ہے۔
1. اذان کی تشریع : یعنی جب خداوند متعال نے اذان کا قانون نافذ کیا اور اذان دی گئی تو وہ اذان صبح کی نماز کے لیے دی گئی تھی یعنی صبح کی نماز سے شروع ہوئی۔[1]
2. سب سے پہلے جس نے اذان کہی: اگر ہم اس بات کو ذکر نہ کریں کہ کس نے اذان یاد بتائی یا سکھائی تو پہلا شخص کہ جس نے اذان دی ان کا نام بلال ابن رباح حبشی تھا۔ [2]
اس مرحلہ میں اس نکتہ کا بھی ذکر ضروری ہے کہ؛
     جبرائیل نے زمین پر سب سے پہلے اذان دی اور وہ خدا کی طرف سے مامور تھا کہ جب رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا سر مبارک امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب (علیھماالسلام) کے زانو پر تھا پیامبر نے فرمایا کہ اے علی جو جبرائیل نے پڑھا اسے سنا ہے، حضرت علی (علیہ السلام) نےکہا ہاں یا رسول اللہ، کہا جاؤ اسے بلال کو بھی سیکھاؤ۔[3]
     تو اس صورت میں پہلی شخصیت کہ جنہوں نے اذان دی وہ مولائے کائنات علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) تھے اور انہوں نے جناب بلال اذان سکھائی۔
3. آسمان پر جس نے سب سے پہلے اذان دی اس شخصیت کا نام حضرت جبرائیل (علیہ السلام)ہے[4] اور یہ اس وقت دی تھی کہ جب رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) معراج پر تشریف لے گئے تھے اور اسی طرح میکائیل نے اقامت کہی تھی۔[5]
پہلی جگہ جہاں پر اذان کہی گئی :
     رسمی طور پر جہاں اذان کہی گئی وہ شہر مدینہ ہے اور مسجد نبی کےقریب ایک گھر تھا کہ جو زید ابن ثابت کا گھر تھا اور باقی گھروں سے یہ گھر اونچائی میں سب سے اونچا تھا اور حضرت بلال اس گھر کے اوپر اذان دیا کرتے تھے اور جب مسجد بن گئی تو مسجد کی چھت پر اذان دیا کرتے تھے.[6]
پہلی اذان آسمان پر جو دی گئی اس مکان کا نام بیت المعمور ہے.[7]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالے جات:

[1] حقی بروسوی، اسماعیل، تفسیر روح البیان، ج 8، ص 261، ناشر، دارالفکر.
[2] ابن اثیر، اسدالغابة، ج 1، ص 243، بیروت، دارالفکر، چاپ 1، 1409ق؛ ابن حجر، عسقلانی، الاصابة، ج 1، ص 97، دارالکتب العلمیة، چاپ 1، 1415؛ البلاذری، انساب الاشراف، ج 1، ص 187، بیروت، دارالفکر، چاپ 1، 1417ق؛ مقریزی، امتاع الاسماع، ج 9، ص 96، تهران، دارالکتب العلمیة، چاپ 1، 1420ق؛ ابن کثیر، البدایة و النهایة، ج 5، ص 6333، بیروت، دارالفکر، چاپ 1، 1407ق؛ شیخ صدوق، تهذیب، ج 2، ص 284، تهران، دارالکتب العلمیة، 1365ه؛ مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، ج 22، ص 248، لبنان، موسسة الوفاء، 1409ق.
[3] شیخ صدوق، تهذیب، ج 2، ص 277؛ عاملی، حر، وسائل الشیعة، ج 5، ص 369، قم، آل البیت، 1409ق؛ کلینی، یعقوب، کافی، ج 3، ص 302، دارالکتب الاسلامیة، تهران، 1365ه.
[4] صالحی شامر، سبل الهدی، ج 3، ص 358، تهران، دارالکتب العلمیة، چاپ 1، 1414ق؛ ثعلبی نیشابوری، الکشف والبیان عن تفسیر القرآن، ج 4، ص 83، لبنان، دارالاحیاء التراث العربی، 1422ق.
[5] وسائل الشیعة، ج 5، ص 420؛ مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، ج 18، ص 350.
[6] تفسیر روح البیان، ج 8، ص 261، بیروت، دارالفکر.
[7] تفسیر روح البیان، ج 8، ص 261، بیروت، دارالفکر.

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
11 + 1 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 26