مشورہ قرآن و حدیث کی روشنی میں

Sun, 04/16/2017 - 11:16

خلاصہ: ہمارے سماج میں مشورہ لینے اور دینے کا دستور تقریبا ختم سا ہوچکا ہے، لہذا مقالہ ھذا میں مشورہ کی اہمیت کو قرآن و حدیث کی روشنی میں اجاگر کیا گیا ہے اس امید و دعا کے ساتھ کے یہ سنت حسنہ دوبارہ احیا ہوسکے اور لوگ اپنے اہم کاموں میں مشورہ کریں۔

مشورہ قرآن و حدیث کی روشنی میں

انسان کو زندگی میں اکثر و  بیشتر ایسے امور پیش آتے ہیں کہ جن میں وہ تذبذب کا شکار ہوجاتا ہے۔کرنے اور نہ کرنے دونوں پہلووٴں پر اس کی نظر ہوتی ہے، وہ سر وقت یہ فیصلہ نہیں کرسکتا کہ موجودہ حالات میں اسے کیا کرنا چاہیے؟ کام کے کس رخ کو اختیار کرنے میں اس کے لیے بھلائی اور ہدایت ہے؟اور کس رخ کو اختیار کرنے میں اس کا نقصان ہے؟ کشمکش کی اس صورتِ حال میں شریعت نے ہدایت دی ہے کہ ایسے تمام مواقع پر ازخود فیصلہ کرنے اور اپنی عقل و دانش پر اعتماد کرنے کے بجائے متعلقہ کام کے ماہرینِ فن، اربابِ نظر ، ہمدرد اور خیر  خواہ افراد سے رائے معلوم کرلی جائے، پھر باہمی غور و فکر کے بعد جس جانب دل مائل ہو، ا للہ پر اعتماد کرتے ہوئے اسے اختیار کر لے، اس کو ”مشورہ یا مشاورت“ سے تعبیر کیا جاتا ہے، جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے: “وَ شاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلين” اے نبی! آپ معاملات اور متفرق امور میں امین و نیک  صحابہ سے مشورہ کیا کیجیے۔ اور جب ارادہ کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو کہ وہ بھروسہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔(آل عمران/159)
مشورہ اسلام میں بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ پیغمبر اکرم وحی آسمانی سے قطع نظر ایسی قوت فکر کے مالک تھے کہ انہیں کسی قسم کے مشورہ کی ضرورت نہ تھی ، پھر بھی آپ مسلمانوں کو مشورہ کی اہمیت بتلانے کے لئے قانون سازی کو چھوڑ کر دیگر عام معاملات میں مشورہ کیا کرتے تھے تا کہ ان کی قوت فکر و نظر پروان چڑھ سکے اور خصوصیت کے ساتھ صاحب الرائے افراد کی قدر افزائی کیا کرتے تھے ۔
بظاہر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کو مشورہ کی حاجت نہیں تھی؛ کیوں کہ آپ کے لیے وحی کا دروازہ کھلا ہوا تھا، آپ چاہتے تو وحی کے ذریعہ معلوم ہوسکتا تھا کہ کیا اور کس طرح کرنا چاہیے؟ اسی لیے مفسرینِ کرام نے یہاں بحث کی ہے کہ حکمِ مشورہ سے کیا مراد ہے۔ اکثر  مفسرین کا خیال ہے کہ صحابہٴ کرام کے اطمینانِ قلب اوران کو وقار بخشنے کے لیے یہ حکم دیا گیا تھا؛ اس لیے کہ عرب میں مشورہ اور رائے طلبی باعثِ عزت و افتخار تھا۔[1] 
          حقیقت یہ ہے کہ وحی کے ذریعہ اگرچہ بہت سے امور میں آپ کی رہنمائی کردی جاتی تھی؛ مگر بعض حکمت اور مصالح کے پیش نظر چند امور کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رائے اور صوابدید پر چھوڑ دیا جاتا، ان ہی مواقع میں آپ کو صحابہٴ کرام سے مشورہ کا حکم دیا گیا؛ تا کہ امت میں مشورہ کی سنت جاری ہوسکے اور لوگ یہ سمجھیں کہ جب نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکمل فہم و بصیرت ہونے کے باوجود مشورہ کا حکم دیا گیا تو پھر ہم اس کے زیادہ محتاج ا ور ضرورت مند ہیں [2] چنانچہ پیغمبر اسلام ارشاد فرماتے ہیں: “ما يَستَغنى رَجُلٌ عَن مَشوَرَةٍ”[3] کوئی بھی مشورہ سے بے نیاز نہیں ہے۔  ایک مقام امام علی علیہ السلام مشورہ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : “مَنِ اسْتَبَدَّ بِرَأْيِهِ هَلَكَ وَ مَنْ شَاوَرَ الرِّجَالَ شَارَكَهَا فِي عُقُولِهَا” جس نے مشورہ نہ کرکے فقط اپنی رای پر اعتماد کیا سمجھو وہ ہلاک ہوگیا اور جس نے لوگوں سے مشورہ کرکے قدم آگے بڑھایا  حقیقت میں وہ ان لوگوں کے ہم عقل ہوگیا اور کامیاب ہوگیا۔ [4]
          تخلیق آدم علیہ السلام کے موقع پر اللہ نے فرشتوں سے اس کا تذکرہ کیا تھا اور ان کی رائے معلوم کی تھی جس کی تفصیل (سورہ بقرہ آیت ۳۰) کے ذیل میں دیکھی جاسکتی ہے، اس سے در حقیقت فرشتوں سے مشورہ طلب کرنا مقصد نہیں تھا؛ بلکہ انسانوں کے دل و دماغ میں مشورہ کی اہمیت پیدا کرنا مقصود تھا کہ خالق کائنات کے اس عمل کو پوری کائنات میں طریقہ بنایا جائے؛ مگر افسوس ! کہ آج دیگر اعمالِ خیر کی طرح مشورہ کی سنت بھی ہماری زندگی اور معاشرہ سے رخصت ہوگئی جس کے بھیانک نتائج ہمارے سامنے ہیں، ساری محنتوں مشقتوں اور کوششوں کے باوجود نا کامی ہمارے حصہ میں ہے، ہر طرف انفرادی اور اجتماعی جگہوں میں خلفشار اور انتشار پایا جاتا ہے بسا اوقات نا کامی اور نقصان کے بعد مشورہ نہ کرنے پر افسوس بھی ہوتا ہے؛ مگر اب کیا حاصل؟ ضرورت ہے کہ اہم اور قابلِ غور مسائل میں کام کے آغاز سے پہلے ہی مشورہ کو اپنا معمول بنایا جائے؛ تا کہ محنتیں بار آور اور نتیجہ خیز ثابت ہوں، یقینا مشورہ میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت بھی ہے اور ہزار دینی و دنیوی فائدے بھی ، کاش! امت ِ مسلمہ کی زندگی اور معاشرہ میں مشورہ کی سنت جاری ہوجائے۔

 

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات
[1] ترجمہ مجمع البیان فی تفسیر القرآن، ج۴، ص315،طبرسی ، فضل بن حسن ، نويسنده: مترجمان‏،  انتشارات فراهانى‏،  تهران، 1360 ش، چاپ اول‏، بتحقيق: رضا ستوده‏۔
[2] ترجمہ مجمع البیان فی تفسیر القرآن، ج۴، ص315، طبرسی ، فضل بن حسن ، نويسنده: مترجمان‏،  انتشارات فراهانى‏،  تهران، 1360 ش، چاپ اول‏، بتحقيق: رضا ستوده‏۔
[3] نہج الفصاحہ، ص۴۹۷، حدیث 1637، ابو القاسم‏، اتنشارات دنياى دانش‏، تهران،1382 ش‏،چاپ چهارم۔
[4]  نهج البلاغه(صبحی صالح) ص۵۰۰ ، قصار۱۶۱ شريف الرضي، محمد بن حسين، محقق / مصحح:صالح، صبحي‏، انتشارات هجرت‏ ، قم، ۱۴۱۴ق‏، چاپ اول۔

 

 

تبصرے

Submitted by محمد طلعت on

اسلام و علیکم..!
محترم اسلامی بھائی صاحب مجھے کافی عرصے سے ایک مسئلہ درپیش ہے جس کی وجہ سے میں بہت ذیادہ پریشان ہوں
مسئلہ یہ ہے کہ مجھے پاک ہستیوں کے بارے میں بُرے خیالات آتے ہیں براہ کرم مجھے یہ بتا دیں کیا ایسے خیالات کے آنے سے نامہ اعمال میں گناہوں کا اضافہ ہوتا ہے کیا یا کوئی اور سزا کا میں حقدار تو نہیں ہو جاتا.

عون محمد's picture
Submitted by عون محمد on

سلام علیکم؛
جب تک انسان کی نیت عمل میں تبدیل نہ ہو تب تک گناہ نہیں لکھا جاتا؛
روایت میں ہے جب شیطان کا وسوسہ قریب آئے تو ذکر "لا الہ الا اللہ" کثرت سے پڑھا جائے اللہ کے فضل و کرم سے دور ہوجائے گا۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
7 + 5 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 37