اربعینِ حسینی(ع) مکتب عشق وحقیقت

Sun, 04/16/2017 - 11:16

خلاصہ: اربعین امام حسین علیہ السلام حقیقت میں حقیقت کربلا اور عشق الھی پر عمل کرنے کا بہترین وسیلہ ہے۔ دنیا بھر کے حقیقت پسند انسان کربلائے معلی میں اربعین حسینی کے لئے جمع ہوکر حق و حقیقت اور مکتب عشق سے وابستگی کا عملی ثبوت دیتے ہیں۔

اربعینِ حسینی(ع) مکتب عشق وحقیقت

دینی تعلیمات میں اربعین کے عدد کی اہمیت

دینِ اسلام میں بہت سے اہم واقعات میں اربعین (چالیس)کا لفظ موجود ہے، جس کا ایک نمونہ یہ ہے کہ رسول خدا(ص) کی بعثت کے وقت عمرِ مبارک چالیس سال تهی، کہا گیا ہے کہ چهل(چالیس) کا عدد انسان کی عمر میں بلوغ اور رشدِ فکری سے تعبیر کیا گیا ہے۔

قرآن میں پروردگار کے ساتھ «میقات» موسی(ع) چالیس دن تک تهی۔ روایات میں منقول ہے کہ حضرت آدم چالیس دن رات کوہِ صفا پر اپنے پروردگار کے سامنے سجدے میں رہے(1)۔

بنی اسرائیل کے بارے میں ہے کہ اپنی دعا کی قبولیت کے لئے چالیس روز و شب گریہ و زاری کیا کرتے تهے(2)۔

پیامبر اسلام(ص) فرماتے ہیں: «من اخلص لله اربعین یوماً فجر الله ینابیع الحکمة من قلبه على لسانه»: جو شخص اپنے تمام اعمال کو چالیس دن تک صرف اور صرف خدا کے لئے خالص کر لے خدا حکمت کو اس کی زبان پر جاری کر دیتا ہے۔

امام علی (ع)سے روایت ہے کہ"اگر چالیس مومن میری بیعت کر لیتے تو میں قیام کر لیتا"(3)۔

روایت میں ہے کہ جو شراب پئے چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی۔

رسول خدا(ص) نے فرمایا کہ جو حرام لقمہ کهائے خدا کی درگاہ میں چالیس دن تک اس کی دعا قبول نہیں ہوتی(4)۔

اس سال بهی محرم آیا اور ان تمام مراحل کو طے کرتے ہوئے، ہم اربعین حسینی پہ آ پہنچے ہیں۔

پہلاا اربعین

روایات کے مطابق امام حسین(ع) کی شهادت کے بعد ان کے پہلے اربعین کے دن صحابی رسول خــــدا(ص)، جابر ابن عبداللہ انصاری(رض) اور عطیہ عوفی، امام حسین(ع) کی تربت کی زیارت کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، اور بعض کتب میں منقول  ہے کہ اسی اربعین کے دن کربلا کے اسراء اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام کا کاروان جو اس مصیبت عظیم کے بعد شام سے مدینہ واپس جا رہا تها، راستے میں ان کی ملاقات، جابر ابن عبداللہ سے ہوتی ہے۔ اگرچہ بعض مورخین اس بات کو تسلیم نہیں کرتے لیکن اکثر علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جابر ابن عبداللہ کی اہل بیت(ع) سے پہلے اربعین پہ ہی ملاقات ہوئی تهی اور جابر قبرِ امام حسین(ع) کا پہــــلا زائر ہے۔(5)

یہ سنت آج بهی عراقی و غیر عراقی لوگوں کے درمیان مرسوم ہے اور اس دن پوری دنیا سے عاشقانِ امام حسین(ع) ان کے مرقدِ مطهر پر جمع ہوتے ہیں۔

اس شب و روز میں امام(ع) کے عاشقان و پیروان ذکر مصیبت کرتے ہیں اور آنسو بہاتے ہیں۔ یہ وہ حق و عشق کا راستہ ہے کہ جو اس کو جاری رکهے گا وہ کبهی منحرف نہیں ہو گا۔

اربعین کے فلسفے کے بارے میں اور اس عدد کے اسرار و رموز کے سلسلے میں اسقدر روایات ہیں کہ قابلِ شمارش نہیں۔ اور اگر آپ تمام انبیاء و آئمہ و اوصیاء کی زندگی پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ ان کے ولادت و وفات یا شهادت کے ایام تو منائے جاتے ہیں لیکن چہلم کسی کا نہیں منایا جاتا، یہ اعزاز صرف سید الشهداء کو حاصل ہے۔

اس دن زیارتِ امام حسین(ع) پڑهنا مستحب ہے اور یہ زیارت "زیارتِ اربعین" کے نام سے معروف ہے، شیخ طوسی(رہ) نے زیارتِ اربعین کی عبارت کو صفوان جمال کے توسط سے حضرت امام صادق(ع) سے کچھ اس طرح سے نقل کیا ہے:

"السلام علی ولی الله و حبیبه، السلام علی خلیل الله و نجیبه، السلام علی صفی الله و ابن صفیه...، الی آخر (6)

اس کی سند موثق ہے کیونکہ اس مطلب کو قرنِ پنجم کے انتہائی معتبر شیعہ عالم شیخ طوسی(رہ) نے نقل کیا ہے۔ اسی لئے شیعہ ان کی زیارت کرنے، پڑهنے اور عزاداری و ماتم میں کوتاہی نہیں کرتے، امام حسن عسکرى ‏علیه‏‌السلام نے زیارت اربعین کو ایمان کی نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیا ہے۔

جی ہاں یہ زیارت اربعین ہی ہے جو خالص مومن کو دوسروں سے جدا کرتی ہے، اہلبیت ‏علیه‏ السلام کے دوستوں کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے اور یہ ایامِ حسینی ہی ہیں یہ اربعینِ حسینی ہی ہے جس کو زندہ رکهنے سے ہم بهی زندہ ہیں، اور مومن واقعی وہی ہے جو حسین ‏علیه‏ السلام کی نهضت‏ کو زندہ رکهے، اور اسکی قدردانی، هدف اور شرکت میں کوتاہی نہ کرے۔

یہ مجالس ہیں جو لوگوں کو جمع کرتی ہیں اور اگر کوئی شخص اسلام کی خدمت کرنا چاہے اور کوئی پیغام دینا چاہے تو خطبا اور ائمہ جمعہ وجماعات کے ذریعے پورے ملک میں پهیل جاتا ہے۔ اس الٰہی اور حسینی(ع) جهنڈے کے نیچے لوگ خودبخود منظم ہوجاتے ہیں((7)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔ مستدرک وسائل، ج9، ص329

2۔ مستدرک، ج5، ص239

3۔ الاحتجاج، ص84

4۔ مستدرک وسائل، ج5، ص217

5:تحقیق درباره اول اربعین سید محمد علی ص 2 6: امام خمینی(رح)، قیام عاشورا، ص16۔

(6) ، تہذیب الاحکام، طوسی ج 6، ص 113۔

(7) عاشورا امام خمینی کی نظر مین ص 16

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
3 + 0 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 44