نماز کا ستون دین ہونا امام محمد باقر (علیہ السلام) کی نظر میں

Sun, 04/16/2017 - 11:16

خلاصۃ: امام محمد باقر (علیہ السلام) کی حدیث کے مطابق نماز، دین کا ستون ہے، نیز دیگر معصومین (علیہم السلام) سے بھی روایات پائی جاتی ہیں جن میں نماز کو ستون دین بتایا گیا ہے، اس مقالہ میں ان روایات پر بحث کی گئی ہے۔

نماز کا ستون دین ہونا امام محمد باقر (علیہ السلام) کی نظر میں

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نماز، فارسی لغت کا لفظ ہے جو عربی کے لفظ"  صلاۃ" کا متبادل ہے، صلاۃ کے معنی "دعا" کے ہیں اور قرآن کی بعض آیات[1] میں لفظ "صلاۃ" دعا کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے۔ قرآن کریم میں ۹۸ بار نماز کا تذکرہ ہوا ہے۔ قرآن مجید میں کسی عمل کی نماز جتنی تاکید نہیں ہوئی اور قرآن کریم نے جو نماز کے فائدے بتائے ہیں ان میں سے بعض یہ ہیں: نماز گناہ سے روکتی ہے[2]، فلاح اور کامیابی کا باعث ہے[3]، زندگی کی مشکلات میں مددگار ہے[4]۔
قرآن کی نظر میں نماز کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ نہ صرف جہنمیوں کی چیخ و پکار کی ایک وجہ نماز کو چھوڑنا بتایا ہے[5] بلکہ نماز میں غفلت کرنے والوں کے لئے بھی تباہی بتائی ہے اور ان کا ذکر دین کو جھٹلانے والوں کے بعد کیا ہے۔[6] نماز ایسی عبادات میں سے ہے جو ہر شریعت میں تھی اور اس کے طریقے شریعتوں کے مطابق مختلف تھے۔ قرآن کریم میں حضرات ابراہیم[7]، اسماعیل[8]، اسحاق، موسی[9]، زکریا[10]، عیسی[11]، شعیب[12]، لقمان حکیم[13] (علیہم السلام) کی نماز کا تذکرہ ہوا ہے۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور معصومین حضرات (علیہم السلام) کے کلام اور کردار میں نماز انتہائی بلند مقام کی حامل ہے۔ کتاب وسائل الشیعہ اور مستدرک الوسائل میں نماز کے سلسلے میں ۱۱۶۰۰ سے زائد احادیث نقل ہوئی ہیں۔ان معصوم حضرات میں سے ایک حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) ہیں جنہوں نے نماز پر بہت تاکید کی ہے۔ اس مقالہ میں حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) سے نماز کے بارے میں چند احادیث کا تذکرہ کرتے ہیں اور ان کو دیگر روایات کے تناظر میں دیکھتے ہیں:
آپ فرماتے ہیں: "الصَّلاةُ عَمُودُ الدّينِ، مَثَلُها كَمَثَلِ عَمُودِ الْفِسْطاطِ، إذا ثَبَتَ الْعَمُودُ ثَبَتَ الاْوْتادُ وَ الاْطْناب، وَ إذا مالَ الْعَمُودُ وَانْكَسَرَ لَمْ يَثْبُتْ وَ تَدٌ وَ لا طَنَبٌ"[14]، "نماز، دین کا ستون ہے، نماز کی مثال خیمہ کے ستونوں کی طرح ہے، جب ستون مضبوط ہو تو کیل اور رسیاں بھی مضبوط رہتی ہیں اور جب ستون گرجائے اور ٹوٹ جائے تو کوئی کیل اور رسی مضبوط نہیں رہ جاتی"۔
حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) اس حدیث میں مثال اور تشبیہ کے ذریعہ نماز کی اہمیت کو بیان فرماتے ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ عبادات میں نماز کا مقام وہی ہے جو خیمہ میں ستون کی حیثیت ہوتی ہے، یعنی جیسے ستون گرجائے تو خیمہ بھی گرجاتا ہے اسی طرح اگر نماز نہ ہو تو دیگر عبادات بھی قائم نہیں رہیں گی۔ لہذا اگر نماز قبول نہ ہو تو دوسری عبادتیں بھی قبول نہیں ہوں گی۔ نماز اس لیے دین کا ستون ہے کہ اس کے بغیر دین بے معنی ہے، جیسا کہ خیمہ، ستون کے بغیر قائم نہیں ہوسکتا۔ نماز ایسی جامع اور مکمل عبادت ہے جو دین میں ستون جیسی ہے۔ بہت ساری عبادات اور دینی دستورات (جیسے زکات، حج، جہاد، روزہ وغیرہ) کی صفت نماز میں پائی جاتی ہے۔ زکات اس چیز کا امتحان ہے کہ آدمی کس حد تک مادیات اور دنیاوی امور سے وابستہ نہیں اور نماز میں بھی نمازی ہر چیز کو چھوڑ کر اور ہر چیز سے توجہ ہٹا کر اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے۔ روزہ میں روزہ دار پر کچھ چیزیں حرام ہوجاتی ہیں اسی طرح نماز میں بھی۔
شاید نماز کا ستون دین ہونے کی وجہ یہ ہو کہ سب اعمال کی قبولیت، نماز کی قبولیت پر موقوف ہے اور اگر اس کو مثال سے بیان کیا جائے تو خیمہ کے لئے ستون کی طرح ہے کہ جو مسلمان نماز نہیں پڑھتا اور نماز کو اہمیت نہیں دیتا، اس کا اسلام اور مسلمان ہونا، بے ستون خیمہ کی طرح ہے۔
نماز اور دیگر اعمال کا باہمی تعلق اتنا گہرا ہے کہ حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں: " أول ما يحاسب به العبد الصلاة فإن قبلت قبل ما سواها"[15]، "پہلی چیز جس کے بارے میں بندہ سے حساب لیا جائے گا، نماز ہے، پس اگر نماز قبول ہوگئی تو دیگر اعمال بھی قبول ہوجائیں گے۔"، شہید مطہری اس روایت میں اعمال کی قبولیت کے سلسلے میں فرماتے ہیں: "یعنی انسان کے دیگر اعمال کی قبولیت کی شرط، نماز کی قبولیت ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر انسان نیکیاں بجالائے اور نماز نہ پڑھے، یا نماز پڑھے لیکن ایسی نماز جو نادرست اور نامقبول ہو جو رد کردی جائے تو اس کی دیگر نیکیاں بھی رد کردی جائیں گی، انسان کی دیگر نیکیوں کی قبولیت کی شرط، اس کی نماز کا قبول ہونا ہے"[16]۔
حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) کی عنوان بحث والی حدیث جیسی دیگر احادیث بھی پائی جاتی ہیں جو دوسرے معصومین (علیہم السلام) سے نقل ہوئی ہیں:
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: " الصلاة عمود دينكم[17]"، "نماز تمہارے دین کا ستون ہے"۔
حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) فرماتے ہیں: " اللّهَ اللّهَ في الصَّلاةِ؛ فإنّها عَمودُ دِينِكُم "[18]، "اللہ اللہ نماز کا خیال رکھو نماز تمہارے دین کا ستون ہے"۔
نیز آپ کا ارشاد گرامی ہے: " اُوصِيـكُم بالصَّـلاةِ و حِفظِها، فإنّها خَيرُ العَمَلِ و هِيَ عَمودُ دِينِكُم "[19]، "میں تمہیں نماز اور اس کی حفاظت کی نصیحت کرتا ہوں، کیونکہ نماز بہترین عمل ہے اور یہ تمہارے دین کا ستون ہے"۔
نتیجہ: جس چیز کو قیام کی ضرورت ہو اسے ستون کی ضرورت ہوتی ہے جس کے سہارے پر وہ چیز کھڑی ہوسکے، دین اسلام کو بھی ستون کی ضرورت ہے، اس کا ستون نماز ہے، اگر انسان کی نماز اللہ تعالی کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق ہو تو اس کا دین قائم ہے ورنہ نماز چونکہ ستون کی حیثیت رکھتی ہے تو جس کی نماز گری ہوئی ہو اس کا دین بھی گرا ہوا ہے۔ احادیث میں نماز کی بہت تاکید کی گئی ہے کیونکہ نماز دین کا ستون ہے اور نماز کی کنجی ولایت ہے جس کی دوسرے مقالہ میں وضاحت کی گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
[1] جیسے (توبه/103)، (احزاب/56)، (بقره/157)۔
[2] عنکبوت/45۔
[3] اعلی/ 15-14۔
[4] بقره/45۔
[5] مدثر/62۔
[6] ماعون/4۔5۔
[7] ابراهیم/40۔
[8] مریم/55 . انبیا/73۔
[9]  طه/14۔
[10] آل عمران/39۔
[11] مریم/31۔
[12] هود/87۔
[13] لقمان/ 17۔
[14] وسائل الشيعه: ج 4، ص 27، ح 4424۔
[15] مستدرك سفينة البحار، ج2، ص284۔
[16] گفتارهای معنوی ، ج1، ص56۔
[17] الكافي: 2 / 19 / 5۔
[18] نہج البلاغہ، مکتوب 47.
[19] بحار الأنوار : 82/ 209/20۔
[20] الكافي : 2 / 18 /5۔
[21] مرآة العقول، ج5، ص120۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
5 + 8 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 34