غزوہ بنی قریظہ

Sun, 04/16/2017 - 11:16

خلاصہ: اس مضمون میں  غزوہ بنی قریظہ کی مختصر تاریخ کو بیان کیا گیا ہے۔

غزوہ بنی قریظہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم
     بنی قریظہ، یھودیوں کا ایک طایفہ(قبیلہ) تھا جو ساتویں صدی(عیسوی)  تک شمال مدینہ کے اطراف میں زندگی گزارا کرتا تھا، بعض لوگوں کا کہنا ہیں کہ وہ یھودی مھاجرین کی نسل سے تھے یا وہ عرب تھے جو یھودییت کی طرف رغبت رکھتے تھے۔[۱]

غزوہ بنی قریظہ، مدینہ کے یھودیوں کے ساتھ رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا آخری غزوہ(وہ جنگ جس میں پیغمبر اسلام بھی شامل رہے ہوں) تھا، جو پانچ ھجری میں بنی قریظہ کے یھودیوں کی پیمان شکنی (جنگ خندق میں مشرکوں کا ساتھ دینے کے صورت میں) کی وجہ سے واقع ہوا،اس غزوہ میں مسلمانوں نے بنی قریظہ کے قلعوں  کو محاصرہ میں لے لیا تھا، ایک مہینہ کے بعد ان لوگوں نے ہتھیار ڈالے اور  سعد ابن حکم کی حکمیت کے لئے رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کو تجویز دی، رسول خدا نے انکی تجویز کو قبول کیا، بعض تاریخی نقل کے مطابق سعد نے  ان لوگوں کا رسول خدا( صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے ساتھ عھد اور پیمان کا حوالہ دیتے ہوئے اور  توریت کے حکم کی بناء پر ان لوگوں کےجنگجو مردوں کے قتل کرنے کا اور ان لوگوں کی عورتوں اور بچوں کو اسارت میں لینے کا اور ان کے اموال کو ضبط کرنے کا حکم دیا۔ رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ سلم )نے  اس کی اس بات کو قبول کیا۔[۲]

غزوہ بنی قریظہ  کی بنیادی وجہ

غزوہ بنی قریظہ  کی بنیادی وجہ یھودیوں کا اپنے عھد اور پیمان کو توڑنا اور جنگ احزاب میں مسلمانوں کے خلاف مشرکوں کی  مدد کرنا تھا، تاریخ کے مطابق جب مشرکوں اور انکے ہمپیمانوں کا لشکر مدینہ کے قریب آپہونچا، حی ابن اخطب ’جو بنی نضیر کے یھودیوں میں سے تھا‘ جس نے جنگ احزاب  کے واقع ہونے میں اہم کردار اداء کیا تھا، قریش کی نمایندگی کرتے ہوئے بنی قریظہ کے دیدار کے لئے گیا اور مسلمانوں کے خلاف جنگ احزاب میں بنی قریظہ  کی موافقت کو حاصل کی۔ [۳]

جب رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو اس بات کی اطلاع پہونچی،  آپ نے سعد ابن معاذ، سعد ابن عبادہ اور اسید ابن حفیر کو اس بات کی تحقیق کرنے کے لئے روانہ کیا۔ نقل ہے کہ بنی قریظہ نے ان لوگوں کے سامنے رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی بے احترامی کی اور وہ پیمان جو  کیا تھا اس کا انکار کیا۔[۴]

جنگ بنی قریظہ کے نتائج:

۱۔ مدینہ سے  مشرکوں کے اڈوں کا  ختم ہونا

۲۔  مسلمانوں کی مالی پشتپناہی غنائم کے ذریعہ

۳۔  مدینہ کا خائن یھودیوں سے خالی ہو جانا۔[۵]

یہ غزوہ جہاں مسلمانوں کے لئے مشعل راہ ہے، وہیں پر یہودیوں کی مکاریوں اور دغا بازیوں کو بھی بے نقاب کرتا ہے اور اُن کی اسلام دشمنی پر سے پردہ اُٹھاتا ہے جو اُس وقت سے جاری ہے جب سے اسلام آیا اور آج بھی یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالے:

[۱]۔https://fa.wikipedia.org/wiki/ بنی‌قریظه

[۲]۔http://fa.wikishia.net/view/ غزوه_بنی‌قریظه

[۳]۔  ابن هشام، السیره النبویه، چاپ بیروت، ج۲، ص ۲۲۰-۲۲۱

[۴]۔ ابن هشام، السیره النبویه، چاپ بیروت، ج۲، ص ۲۲۱-۲۲۲

[۵]- ناصر مکارم شیرازی،تفسیر نمونه ، ج ۱۷ ، ص ۲۷۵۔

 

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
1 + 17 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 45