عید کی حقیقت

Sun, 04/16/2017 - 11:16

خلاصہ: دور حاضر میں عید کے مقدس دن کو بعض شر پسند لوگ اپنے افعال و کردار سے پائمال کررہے ہیں، اس مختصر مضمون میں اس دن (عید) کا جائزہ لیا گیا ہے اور عید کے صحیح مفہوم و معنا کو پہنچانے کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کی طرف اجمالی اشارہ بھی کیاگیا ہے۔

عید کی حقیقت

اقوام عالم میں‌ ہمیشہ سے ملی، قومی اور مذہبی تہوار منانے کا رواج رہا ہے۔ مگر دنیا کی اکثر قومیں اپنے تہواروں میں ناچ گانے، لہو و لعب، کھیل کود، شراب نوشی اور حد سے گزری ہوئی تفریحات کو پسند کرتی ہیں۔ چنانچہ وہ اپنے تہواروں میں‌ اگلے پچھلے رنج و غم اور مصائب کو بھول کر وقتی مستیوں میں ایسے مست ہو جاتی ہیں کہ انہیں اپنی فکر ہی نہیں رہتی۔ ہولی، دیوالی اور کرسمس کے موقع پر ایسے مناظر بکثرت دیکھائی دیتے ہیں۔ یہی صورتحال زمانہ جاہلیت میں بھی تھی کہ وہ تہوار مناتے وقت ہر حد پار کر جاتے تھے۔
خوشی ایسی ہوکہ قلب کی گہرائیوں‌ سے سرور کی مہک اٹھے، دل و دماغ کے دریچوں سے عطر بیز ہواؤں کے جھونکے آئیں اور بدن و روح کا ایک ایک انگ مسرت اور عہدیت کی ادائیگی میں والہانہ انداز میں سبقت کر جانے کی کوششوں میں مصروف ہوجائے۔
بے شک عید خوشیوں کا دن ہے اور اس دن خوشیاں منانے کی تاکید بھی ملتی ہے مگر حقیقت میں مسلمانوں‌ کی سب سے بڑی خوشی یہ ہے کہ اُس سے اُس کا پالنے والا اللہ راضی ہوجائے اور وہ اپنے خدا سے راضی ہوجائے، چنانچہ قرآن کریم میں واضح لفظوں میں اعلان ہے "رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوا عَنْهُ" ان کی کامیابی اور خوشی کا عالم یہ ہو گا کہ وہ اللہ سے راضی ہوں گے اور اللہ ان سے راضی ہو گا ۔[1]کیونکہ اللہ کی خوشنودی کو ہی اللہ نے قرآن کریم میں سب سے بڑی خوشی قرار دیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ " اور اللہ کی طرف سے خوشنودی تو سب سے بڑی چیز ہے (جو جنت والوں کو نصیب ہوگی) یہی تو زبردست کامیابی ہے‘‘۔
عید لغت  میں مادہ "عود" سے ہے جس کے معنی ہیں پلٹنا۔ لہذا ان دنوں کو جن میں کسی قوم سے مشکلات دور ہوتی ہیں اور کامیابیاں ان کی طرف پلٹتی ہیں عید کہا جاتا ہے، اسلامی عیدوں میں اس مناسبت سے کہ ایک مہینہ اللہ کی اطاعت کے سائے میں رہ کر، یا فریضہ حج انجام دے کر روح انسانی کی پاکیزگی واپس پلٹتی ہے، عید کہا جاتا ہے۔[2]
شوال کے پہلے دن کو اس لئے عید فطر کہتے ہیں کہ اس دن کھانے پینے کی محدودیت ختم ہونے کا اعلان ہو جاتا ہے کہ مؤمنین دن میں افطار کریں۔ فطر اور فطور کا معنی کھانے پینے کا ہے، کھانے پینے کے آغاز کرنے کو بھی کہا گیا ہے۔ کسی وقت تک کھانے پینے سے دوری کرنے کے بعد جب کھانا پینا شروع کیا جاۓ تو اسے افطار کہتے ہیں اور اسی لئے رمضان المبارک میں دن تمام ہونے اور مغرب شرعی ہونے پر روزہ کھولنے کو افطار کہا جاتا ہے یعنی کھانے پینے کی اجازت حاصل ہوجاتی ہے۔
مگر حیف صدحیف مسلمانوں کا ایک طبقہ جنھوں نے عید کو ناچنے، گانے اور ڈھول تاشے سے مخصوص کردیا ہے، ان کی نظر میں عید یعنی اسلام کی ہر قید و بند سے آزادی، ایسے افراد اس دن ہر وہ کام انجام دے لیتے ہیں جو پچھلے پورے مہینہ نہیں بلکہ شاید پورے سال انجام نہ دیا ہو۔
مقام غور و فکر ہے کہ کیسے ممکن ہے پروردگار عالم نے اپنے بندوں کو روزہ و نماز کے ذریعہ پورے مہینہ بچایا ہو، اس طریقہ سے کہ اس کے سارے گناہ تک جلا کر ختم کردیئے ہوں اور اسے برائیوں کے گندے دلدل سے نکال کر روحانی سفید ملبوس سے زیب تن کردیا ہو اور مہینہ کے بعد دوسرے مہینہ کے پہلے ہی دن اس بات کی اجازت دیدے کہ وہ اس سفید روحانی ملبوس کے ساتھ دوبارہ اس گندے دلدل میں جاکر گر جائے؟ یہ حکمت خداوندی کے بالکل خلاف ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ عید فطر ایسا دن ہے کہ جس کو اللہ نے دوسرے دنوں پر منتخب کیا ہے اور اس دن کو اپنے بندوں کو تحفے دینے کیلۓ انتخاب کیا ہے تاکہ اس دن حاضر ہوکر امید رکھتے ہوئے آئیں اور اپنے خطاؤں کی معافی مانگیں، اپنی حاجات طلب کریں اور اپنی آرزو بیان کریں، اور خداوند عالم نے بھی وعدہ کیا ہے کہ جو مانگو گے وہ عطا کروں گا۔ اور توقع سے زیادہ  دوں گا، اور خداوند عالم اس کے حق میں اس قدر مھربانی ، بخشش اور نوازش کرے گا جس کا اسے تصور بھی نہیں ہو گا۔
پیغمبر اسلام (ص) نے اس دن کی فضیلت کے بارے میں فرمایا: "إِذَا كَانَ أَوَّلُ يَوْمٍ مِنْ شَوَّالٍ نَادَى مُنَادٍ أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ اغْدُوا إِلَى جَوَائِزِكُمْ ثُمَّ قَالَ يَا جَابِرُ جَوَائِزُ اللَّهِ لَيْسَتْ بِجَوَائِزِ هَؤُلَاءِ الْمُلُوكِ ثُمَّ قَالَ هُوَ يَوْمُ الْجَوَائِزِ "[3]۔ جب شوال کا پہلا دن ہوتا ہے، آسمانی منادی نداء دیتا ہے : اے مؤمنو! اپنے تحفوں کی طرف دوڑ پڑو، اس کے بعد فرمایا: اے جابر ! خدا کا تحفہ بادشاہوں اور حاکموں کے تحفہ کے مانند نہیں ہے۔ اس کے بعد فرمايا" شوال کا پہلا دن الھی تحفوں کا دن ہے۔
مقام معظم رہبری اس دن کے مقام کو واضح کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: عید فطر، ماہ مبارک رمضان کے بعد انعام حاصل کرنے اور رحمت الہی کا نظارہ کرنے کا دن ہے، بحمد اللہ آپ نے رمضان کا مہینہ جو صوم و صلاۃ کا مہینہ تھا، خیر و عافیت سے گزار دیا اور خداوند متعال نے دعا و مناجات اور ذکر و عبادت کے ساتھ آپ لوگوں کو روزے کی ادائیگی اور اللہ تعالی کے سامنے توسل اور خضوع و خشوع کی توفیق عطا کی۔ آج وہ دن ہے جب ان شاء اللہ خداوند متعال آپ لوگوں کو جزا عنایت کرے گا۔ شاید خداوند متعال کی ایک سب سے بڑی جزا یہ ہو کہ وہ ہم سب کو اس بات کی توفیق عطا کرے کہ ہم اگلے ماہ رمضان تک رحمت الہی کے وسیلے کو اپنے لیے محفوظ رکھ سکیں۔ ماہ مبارک رمضان کے درس پر پورے سال کاربند رہیں، یہ ہوگی خداوند عالم کی ایک سب سے بڑی جزا کہ جس نے ہم سب کو اس طرح کی توفیق عطا کی۔ ہمیں خداوند عالم سے رحمت، رضا، (دعا اور اعمال کی) قبولیت، عفو اور عافیت کی دعا کرنی چاہیے کہ درحقیقیت یہی حقیقی عید ہوگی۔[4]
اختتام مقالہ پر آپ کی خدمت میں حضرت علی (علیہ السلام)کی اس حدیث کو پیش کرنے کا شرف حاصل کر رہے ہیں جس میں آپ (علیہ السلام)نے عید کی حقیقت کو اور واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : آپ سے منقول ہے کہ "ِ إِنَّمَا هُوَ عِيدٌ لِمَنْ قَبِلَ اللَّهُ صِيَامَه وَ شَكَرَ قِيَامَهُ ُ[5]" آج حقیقی عید ہےاس شخص کے لیے جس کے روزے، نماز اور عبادت کو اللہ نے ماہ مبارک رمضان میں قبول کر لیا ہو۔ " وَ كُلُّ يَوْمٍ لَا تَعْصِي اللَّهَ فِيهِ فَهُوَ يَوْمُ عِيدٍ [6]"اور ہر وہ دن جس میں خدا کی معصیت نہ کی جائے، عید کا دن ہے۔

عزیزو! خدا کی معصیت کا ارتکاب نہ کرکے اور محرمات الہی سے اجتناب کرکے، آج کے دن کو عید بنا لیجیے، کل کے دن کو عید بنا لیجیے، سال کے ہر دن کو اپنے لیے عید بنا لیجیے۔

 

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات

[1]سورہ توبہ/ 100
[2]تفسير نمونه، ج5، ص.131، ناصر مكارم شيرازى ، انتشارات دار الكتب الإسلامية ، تهران 1374 ش، چاپ اول۔
[3]الكافي،ج4، ص168    باب يوم الفطر۔ محمد بن يعقوب بن اسحاق كلينى رازی، انتشارات دار الكتب الإسلامية، تهران‏، 1365 هجرى شمسى‏، چاپ چهارم‏۔
[4]مختلف شعبوں کے اہلکاروں سے خطاب سے اقتباس 2001/12/16
[5] وسائل‏الشيعة، ج15، ص308، باب وجوب اجتناب المعاصي۔ محمد بن حسن بن على بن محمد بن حسين، معروف به شيخ حر عاملی، انتشارات مؤسسه آل البيت لإحياء التراث، قم، 1409 هجرى چاپ اول‏۔
[6]وسائل‏الشيعة، ج15، ص308، باب وجوب اجتناب المعاصي۔ محمد بن حسن بن على بن محمد بن حسين، معروف به شيخ حر عاملی، انتشارات مؤسسه آل البيت لإحياء التراث، قم، 1409 هجرى، چاپ اول‏۔

 

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
2 + 0 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 35