چودہویں رمضان کی دعا کی مختصر شرح

Sun, 04/16/2017 - 11:16

خلاصہ: تمام آفات اور بلاء ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہیں، اگر ہم خدا سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کریں تو وہ ہپت جلدی بخشنے ولا ہے۔

چودہویں رمضان کی دعا کی مختصر شرح

بسم اللہ الرحمن الرحیم
اَللّٰھُمَّ لاَ تُؤاخِذْنِی فِیہِ بِالْعَثَراتِ وَأَقِلْنِی فِیہِ مِنَ الْخَطایا وَالْھَفَواتِ وَلاَ تَجْعَلْنِی فِیہِ غَرَضاً لِلْبَلایا وَالْاَفاتِ، بِعِزَّتِکَ یَا عِزَّ الْمُسْلِمِینَ ۔[۱]
خدایا اس دن میری لغزشوں کا مجھ سے مؤاخذہ نہ کر، اور میری خطاؤں اور غلطیوں کے عذر کو قبول کرلے، اور مجھ کو بلاء و آفت کے تیر کا نشانہ نہ بنانا اپنی عزت کے واسطہ سے، اے مسلمانوں کو عز ت دینے والے۔

     اللہ تعالی اپنے بندوں پرنہایت شفيق اور مہربان ہے، اسکی رحمت ہےکہ اپنے بندوں کو اسی چیز کا مکلف کرتا ہے جسکی وہ استطاعت رکھتے ہیں، جیسا کہ خداوند عالم فرما رہا ہے: « لاَ يُكَلِّفُ اللّهُ نَفْساً إِلاَّ وُسْعَهَا[سورہ بقرہ، آیت:۲۸۶] اللہ کسی نفس کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا»، کیونکہ « يُرِيدُ اللّهُ أَن يُخَفِّفَ عَنكُمْ وَخُلِقَ الإِنسَانُ ضَعِيفاً[سورہ نساء، آیت:۲۸] خدا چاہتا ہے کہ تمہارے لئے تخفیف کا سامان کردے اور انسان کو کمزور ہی پیدا کیا گیا ہے»۔
     جو انسان، اللہ کے بنائے ہوئے قوانین کی پیروی کرےگا، اس سے کسی چیز کا مؤاخذہ نہیں کیا جائے گا لیکن اگر کوئی خدا کے بنائے ہوئے قوانین کی مخالفت کریگا تو اسکا مؤاخذہ کیا جائے گا: « وَإِن تُبْدُواْ مَا فِي أَنفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُم بِهِ اللّهُ[سورہ بقرہ، آیت:۲۸۴] تم اپنے دل کی باتوں کا اظہار کرو یا ان پر پردہ ڈالو وہ سب کا محاسبہ کرے گا». ‌
     اسی لئے خداوند عالم سے دعا ہے کہ وہ ہماری لغزشوں کو معاف کردے اور انکا مؤخذہ نہ کریے: « اَللّٰھُمَّ لاَ تُؤاخِذْنِی فِیہِ بِالْعَثَراتِ؛ خدایا اس دن میری لغزشوں کا مجھ سے مؤاخذہ نہ کر»۔

     خداوند عالم اپنے بندوں کے عذر کو قبول کرنے والا ہے اور اپنے بندوں سے بہت جلدی راضی ہونے والا ہے اور اس طرح اپنے بندوں کو اپنی رحمت اور مغفرت کی جانب بلا رہا ہے: « وَسَارِعُواْ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ[سورہ آل عمران، آیت:۱۳۳] اور اپنے پروردگار کی مغفرت اور اس جنّت کی طرف سبقت کرو جس کی وسعت زمین و آسمان کے برابر ہے اور اسے ان صاحبان تقوٰی کے لئے مہیاّ کیا گیا ہے»، خدا کے سوا کوئی بھی بندوں کے عذر کو قبول کرنے والا نہیں ہے: « وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ اللّهُ[سورہ آل عمران، آیت:۱۳۵] اور خدا کے علاوہ کون گناہوں کا معاف کرنے والا ہے»، جب بندہ، خداوند عالم کی بارگاہ میں اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرتا ہے تو یقینا خداوند متعال اس بندہ پراپنے لطف اور کرم سے اسکے گناہ کو معاف کردیتا ہے، کیونکہ وہ  بہت رحمت کرنے ولا ہے، جیسا کہ امام صادق(علیہ السلام) فرمارہے ہیں: « أَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ إِلَى دَاوُدَ النَّبِيِّ عَلَى نَبِيِّنَا وَ آلِهِ وَ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَا دَاوُدُ إِنَ‏ عَبْدِيَ‏ الْمُؤْمِنَ‏ إِذَا أَذْنَبَ‏ ذَنْباً ثُمَّ رَجَعَ وَ تَابَ مِنْ ذَلِكَ الذَّنْبِ  غَفَرْتُ لَهُ وَ أَنْسَيْتُهُ الْحَفَظَةَ وَ أَبْدَلْتُهُ الْحَسَنَةَ وَ لَا أُبَالِي وَ أَنَا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ[۲] اللہ تعالی نے جناب داؤد(علیہ السلام) پر وحی کی: اے داؤد، اگر بندہ، گناہ کا مرتکب ہو اور اگر اسکے بعد توبہ کرلے تو میں اسے بخش دیتا ہوں اور عمل کو لکھنے والوں کو حکم دیتا ہوں کہ اس گناہ کو اس شخص کے حافطہ سے مٹادو اور اسکو نیکی سے تبدیل کردو، کیونکہ میں بہت زیادہ رحم کرنے والا ہوں».
     اسی لئے ہم آج کے دن خدا کی بارگاہ میں پناہ مانگتے ہوئے دعا کر رہے ہیں: « وَأَقِلْنِی فِیہِ مِنَ الْخَطایا وَالْھَفَواتِ؛ اور میرے خطاؤں اور غلطیوں کے عذر کو قبول کرلے»۔

     جتنی بھی آفات اور بلاء ہم پر نازل ہوتی ہیں، وہ سب ہمارے گناہوں کے وجہ سے ہیں، جیسا کہ خداوند عالم قرآن مجید میں فرمارہا ہے: « وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ[سورہ شوری،آیت:۳۰] اور تم تک جو مصیبت بھی پہنچتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی ہے اور وہ بہت سی باتوں کو معاف بھی کردیتاہے»، اور امام صادق(علیہ السلام) فرمارہے ہیں: « ‏وَ لَا نَكْبَةٍ وَ لَا صُدَاعٍ وَ لَا مَرَضٍ إِلَّا بِذَنْب‏[۳] کوئی مصیبت نہیں آتی اور سرکا درد اور مرض لاحق نہیں ہوتا مگر گناہ کی وجہ سے»۔
     اسی لئے ہم آج کے دن خدا کی بارگاہ میں دعا کررہے ہیں کہ: « وَلاَ تَجْعَلْنِی فِیہِ غَرَضاً لِلْبَلایا وَالْاَفاتِ، بِعِزَّتِکَ یَا عِزَّ الْمُسْلِمِینَ؛ اور مجھ کو بلا و آفت کے تیر کا نشانہ نہ بنانا اپنی عزت کے واسطہ سے، اے مسلمانوں کو عز ت دینے والے»۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالے:
[۱]۔ ابراہیم ابن علی عاملی الکفعمی، المصباح للکفعمی، دار الرضی(زاھدی)، ۱۴۰۵ق، ص۶۱۴۔
[۲]۔محمد باقر مجلسى، بحار الأنوارالجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار،  دار إحياء التراث العربي، ۱۴۰۳ ق، ج۶، ص۲۸.
[۳]۔ محمد بن يعقوب كلينى، الكافي ، دار الكتب الإسلامية، ۱۴۰۷ ق، ج۲، ص۲۶۹.

تبصرے

Submitted by ali on

ماشاء اللہ. مختصر مفید بہت ہی اچھی شرح ہے.

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
1 + 0 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 4