ساتویں رمضان کی دعا کی مختصر شرح

Sun, 04/16/2017 - 11:16

خلاصہ: بغیر خدا کی مدد کے ہم اسکی اطاعت نہیں کرسکتے کیونکہ مدد کرنے وال صرف اور صرف وہی ہے۔

ساتویں رمضان کی دعا کی مختصر شرح

بسم اللہ الرحمن الرحیم
اَللّٰھُمَّ أَعِنِّی فِیہِ عَلَی صِیامِہِ وَقِیامِہِ، وَجَنِّبْنِی فِیہِ مِنْ ھَفَواتِہِ وَآثامِہِ، وَ ارْزُقْنِی فِیہِ ذِکْرَکَ بِدَوامِہِ، بِتَوْفِیقِکَ یَا ھادِیَ الْمُضِلِّینَ ۔[۱]
خدا یا تو میری مدد کر اس دن کے روزہ اور عبادت پر، اور مجھ کو محفوظ رکھ اس میں لغزشوں اور گناہوں سے، اور اس میں اپنے ذکر دائم کی توفیق دے اپنی توفیق سے اے گمراہوں کی راہنمائی کرنے والے۔

     خداوند عالم کی عبادت کرنے کے لئے ضروری ہے کہ خدا ہی سے مدد مانگیں کیونکہ بغیر اسکی مدد کے ہم اسکی عبادت نہیں کرسکتے اسی لئے ہم روز، دن میں دس دفعہ خدا سے مدد مانگتے ہیں: « إِيَّاكَ نَعْبُدُ وإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ[سورہ الحمد، آیت:۵] ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں ا ور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں»، اور مؤمنین کو اس بات کا یقین ہے کہ خدا کے علاوہ کوئی بھی انکی مدد کرنے وال نہیں ہے: « وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللّهِ مِن وَلِيٍّ وَلاَ نَصِيرٍ [سورہ بقرہ، آیت:۱۰۷] اس کے علاوہ کوئی سرپرست ہے نہ مددگار»، اسی لئے ہم آج کے دن خدا سے دعا کر رہے ہیں کہ عبادت کرنے اور روزہ رکھنے کے لئے ہماری مدد فرما: « اَللّٰھُمَّ أَعِنِّی فِیہِ عَلَی صِیامِہِ وَقِیامِہِ؛ خدا یا تو میری مدد کر اس دن کے روزہ اور عبادت پر»۔

     خدا ہماری رگ گردن سے زیادہ نزدیک ہے، اور ہم سے زیادہ ہم پر مھربان ہے، جو بھی چاہتا ہے کہ اپنی اصلاح کرے خدا اسے راستہ دکھاتا ہے، ہم اس لئے پریشانیوں میں ہیں کیونکہ ہم خدا سے دور ہیں، جتنا ہم گناہ کے دلدل میں پھنستے جائیں گے، اتنا ہی ہم خدا سے دور ہوتے چلے جائیں گے اور جتنا ہم گناہ سے دور ہونگے اتنا ہی خدا سے قریب ہونگے، اسی لئے ہم آج کے دن خدا سے دعا کر رہے ہیں: « وَجَنِّبْنِی فِیہِ مِنْ ھَفَواتِہِ وَآثامِہِ؛ اور مجھ کو محفوظ رکھ اس میں لغزشوں اور گناہوں سے»۔

     جو ہمیشہ خدا کے ذکر میں مصروف رہتے ہیں وہ کسی بھی حالت میں خدا سے غافل نہیں ہوتے۔ اب یہاں پر سوال ہوتا ہے کہ کون ہیں وہ لوگ جو ہمیشہ خدا کے ذکر میں مصروف رہتے ہیں؟ اسکے جواب میں خداوند عالم ارشاد فرما رہا ہے: « الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللّهَ قِيَاماً وَقُعُوداً وَعَلَىَ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذا بَاطِلاً سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ[سورہ آل عمران، آیت:۱۹۱] جو لوگ اٹھتے, بیٹھتے, لیٹتے خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی تخلیق میں غوروفکر کرتے ہیں... کہ خدایا تو نے یہ سب بے کار نہیں پیدا کیا ہے- تو پاک و بے نیاز ہے ہمیں عذاب جہّنم سے محفوظ فرما»،  اس آیت کو مد نظر رکھتےہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جو لوگ خدا سے غافل نہیں ہوتے وہ ہمیشہ ذکر کرنے والے ہیں، اسی لئے ہم آج کے دن خدا  سے دعا مانگ رہے ہیں:« وَ ارْزُقْنِی فِیہِ ذِکْرَکَ بِدَوامِہِ، بِتَوْفِیقِکَ یَا ھادِیَ الْمُضِلِّینَ؛ اور اس میں اپنے ذکر دائم کی توفیق دے اپنی توفیق سے اے گمراہوں کی راہنمائی کرنے والے»۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ:
[۱]۔ ابراہیم ابن علی عاملی الکفعمی، المصباح للکفعمی، دار الرضی(زاھدی)، ۱۴۰۵ق، ص۶۱۳۔

تبصرے

Submitted by ظہور on

ماشاءاللہ. بہت خوب

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
1 + 6 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 34