امام موسی کاظم علیہ السلام کا مختصر تعارف

Sun, 04/16/2017 - 11:16

خلاصہ: حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی پیدائش کی تاریخ اور جگہ، آپ کے والد اور والدہ کا تعارف، آپ کی کنیت اور القاب، آپ کا اخلاق اور تلاوت قرآن اور شہادت کی صورتحال پر ایک نظر۔

امام موسی کاظم علیہ السلام کا مختصر تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام اتوار کے دن ۷ صفر ۱۲۸ ہجری قمری کو "ابواء" گاؤں میں جو مکہ اور مدینہ کے درمیان دیہات ہے، پیدا ہوئے۔ آپؑ کے والد گرامی حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام، شیعوں کے چھٹے امام اور پیشوا ہیں اورآپؑ کی والدہ مکرمہ کا اسم گرامی حمیدہ مصفاۃ ہے جو معزّز، عالمہ اور فاضلہ خاتون تھیں۔

آپؑ کا اسم گرامی موسی، مشہور کنیت ابوالحسن اور ابوابراہیم ہے اور آپؑ کے القاب کاظم، صابر، صالح اور امین ہیں اور مشہور لقب کاظم ہے، یعنی غصہ کو پی جانے والے، جیساکہ معروف ہے کہ آپؑ نے اتنا ظلم اپنے دشمنوں سے برداشت کرنے کے باوجود ان کے لئے بددعا نہ کی۔ابن اثیر جو اہل سنت کا متعصب عالم ہے، اس کا کہنا ہے: "آنحضرت کو کاظم کا لقب دیا گیا کیونکہ آنحضرت اُس آدمی کے ساتھ احسان کیا کرتے تھے جو آپ کے حق میں زیادتی کرتا اور یہ آپ کا ہمیشہ کا طریقہ کار تھا"۔[1]

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کے بعد حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام نے باپ کی وصیت اور نص کے مطابق ۱۴۸ ھ.ق سے ۱۸۳ ھ.ق تک شیعوں کی سرپرستی اور امامت کے ذمہ دار قرار پائے اور آپؑ نے ۳۵ سالہ امامت کا دور تقیہ کی حالت میں گزارا۔

لیکن آپؑ کے اصحاب تقیہ کی وجہ سے بعض اوقات آپؑ کو "عبد صالح" اور کبھی "فقیہ" اور "عالم" اور دیگر القاب سے پکارتے تھے اور لوگوں میں "باب الحوائج" کے لقب سے معروف تھے ۔ آپؑ کی انگشتری کا نقش "حَسْبِیَ اللہُ" اور دوسری روایت کے مطابق "اَلْمُلْکُ للہِ وَحْدَہُ" تھا۔ حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام اپنے زمانے کے عابدترین، زاہدترین، فقیہ ترین، سخی ترین اور کریم ترین شخص تھے، آپؑ جب بھی قرآن کریم کی تلاوت کرتے تو لوگ آپؑ کے اردگرد اکٹھا ہوجاتے اور آپؑ کی دلنشین آواز سے لطف اندوز ہوتے۔

سندی ابن شاہک نے ہارون رشید کے حکم سے آپؑ کے کھانے میں زہر ڈالا، وہ کھانا آپؑ کے بدن مبارک میں اثرانداز ہوا اور آپؑ تین دن سے زیادہ زندہ نہ رہے۔ آنحضرتؑ کو ۲۵ رجب ۱۸۳ ہجری قمری میں، بغداد میں ہارون الرشید عباسی کے زندان میں ، ۵۵ سال کی عمر میں زہر کے ذریعہ شہید کردیا گیا۔ آپؑ کا روضہ مبارک، کاظمین، بغداد کے قریب واقع ہے، اور آپؑ کے محبوں کی عظیم پناہگاہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(ماخوذ: دانستنی های امام کاظم علیه السلام)

[1] تاریخ ابن اثیر ۶/۱۶۴

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
6 + 0 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 29