ماہ رجب کی فضیلت اور اس کے اعمال

Sun, 04/16/2017 - 11:17

چکیده:ماہ رجب کی فضیلت اور اس کے اعمال

ماہ رجب کی فضیلت اور اس کے اعمال

ماہ رجب کی فضیلت اور اس کے اعمال

ماہ رجب , شعبان اور رمضان بڑی عظمت اور بلندی والے مہینے ہیں  اور بہت سی روایات میں ان کی فضیلت بیان کی گئی  ہے۔ جیسا کہ رسول خدا  (ص) کا ارشاد ہے کہ ماہ رجب خدا کے نزدیک بڑی عظمت  کا حامل ہے۔ کوئی بھی مہینہ حرمت وفضیلت میں اس کا ہم پلہ نہیں ،حرام مہینوں میں سے ایک مہینہ رجب کا مہینہ ہے ۔اور اس مہینے میں کافروں سے بھی جنگ و جدال کرنا حرام ہے۔اور ہاں  رجب خدا کا مہینہ ہے۔
روایات میں  اس مہینہ کی بہت اہمیت  بتائی گئی ہے ، اور اسی طرح روایات میں ان تین مہینوں کے اعمال بھی ذکر ہوئے ہیں ۔
 یہ اعمال دو قسم کے ہیں ایک وہ جو مشترک اعمال ہیں اور دوسرا وہ جو رجب سے مخصوص ہیں ۔

 الف)ماہ رجب کے مشترک اعمال :

روزه:

1.امام صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں :حضرت نوح علیہ السلام پہلی رجب کو کشتی پر سوار ہوئے تھے اور اپنے ساتھیوں کو کہا اس دن روزہ رکھیں اور فرمایا: جو بھی اس دن روزہ رکھے گا جھنم کی آگ اس سے ایک سال دور رہے گی اور اگر کوئی سات دن روزہ رکھے تو جہنم کے سات دروازے اس پر بند کر دیے جائیں گے اگر کوئی آٹھ دن روزہ رکھے تو بہشت کے آٹھ دروازے اس پر کھل جائیں گے اگر کوئی پندرہ  دن روزہ رکھے خداون متعال اس کی حوائج کو برآوردہ کرے گا جو اس سے زیادہ دن روزے رکھے تو خدا کی عنایت بھی اسی طرح بڑھتی چلی جائے گی.[1]
   ابن بابویہ میں نے معتبر سند کے ساتھ سالم سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں اواخر رجب میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت نے میری طرف دیکھتے ہوئے فرمایا کہ اس مہینے میں روزہ رکھا ہے؟ میں نے عرض کیا فرزند رسول ! واللہ نہیں! تب فرمایا کہتم اس قدر ثواب سے محروم رہے ہوکہ جسکی مقدارسوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا کیونکہ یہ مہینہ ہے جسکی فضیلت تمام مہینوں سے زیادہ اور حرمت عظیم ہے اور خدا نے اسمیں روزہ رکھنے والے کا احترام اپنے اوپرلازم کیا ہے۔ میں نے عرض کیا اے فرزند رسول! اگرمیں اسکے باقی ماندہ دنوں میں روزہ رکھوں توکیا مجھے وہ ثواب مل جائیگا؟ آپ نے فرمایا: اے سالم!

آگاہ رہو کہ جو شخص آخر رجب میں ایک روزہ رکھے تو خدا اس کی موت کی سختیوں اور بعداز موت کی ہولناکی اورعذاب قبر سے محفوظ رکھے گا۔جوشخص آخر ماہ میں دوروزے رکھے وہ پل صراط سے بہ آسانی گزرجائے گا اور جو آخررجب میں تین روزے رکھے اسے قیامت میں سخت ترین خوف‘تنگی اورہولناکی سے محفوظ رکھا جائے گا اور اس کوجہنم کی آگ سے آزادی کاپروانہ عطا ہوگا۔

2.امام کاظم علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں: رجب بہشت کی نہروں میں سے ایک نہر کا نام ہے کہ جو دودھ سے زیادہ سفید اور شھد سے زیادہ میٹھی ہے اگر کوئی ایک دن بھی اس ماہ میں روزہ رکھے گا  خدا وندمتعال اسے اس نہر سے جام پیلائے گا۔.[2]

 3.اور فرمایا: کہ رجب ک امہینہ ایسا مہینہ ہے کہ جس میں نیکیوں کی جزا کئی برابر ملتی ہے اور اسی طرح گناہ بھی معاف ہوتے ہیں کوئی ایک دن روزہ رکھتا ہے تو سو سال جہنم کی آگ اس سے دور ہو جاتی ہے اور اگر کوئی تین دن روزہ رکھتا ہے تو بہشت اس پر واجب ہو جاتی ہے ۔.[3]

  اذکار:

 1. رسول خدا (ص) ارشاد فرماتے ہیں:اگر کوئی رجب کے  مہینے میں سو مرتبہ اس ذکر کو پڑھے" أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِی لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَحْدَهُ لَا شَرِیکَ لَهُ وَ أَتُوبُ إِلَیْهِ"اور اس کے بعد خدا کی راہ میں انفاق کرے تو اس پر خدا کی رحمت برسے گی اور اسی طرح جب قیامت کے دن خدا سے ملاقات کرے گا تو ارشاد خداوندی ہوگا تم نے میری سلطنت کا اقرار کیا اب جو بھی چاہتے ہو مانگو میں عطا کروں ۔.[4]

 2. رسول خدا (ص) ارشاد فرماتے ہیں:اگر کوئی اس مہینے میں ہزار مرتبہ کہے"َلا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ"تو خداوند متعال ایک لاکھ نیکی اس کے نامہ اعمال میں لکھے گا۔ [5]

 ب)ماہ رجب کے مخصوص اعمال:

مستحب نمازیں کہ جو اس ماہ کی ہر میں پڑھی جائیں .[6]

 پہلی رجب کی رات پندرہ رجب کی رات اور اس مہینے کی آخری رات میں غسل کرنا ۔ [7]  اس مہینے کی پہلی شب جمعہ کی نمازیں  (لیلة الرغائب) [8] تیرہ ، چودہ اور پندرہ ماہ رجب کی نمازیں  (لیالی البیض) [9]عمرہ انجام دینا[10] زیارت امام حسین علیہ السلام کا پڑھنا[11] زیارت امام رضا علیہ السلام کا پڑھنا"[12] 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منابع

[1]صدوق، محمد بن علی، ثواب الأعمال، ص 53، انتشارات شریف رضی، قم، 1364ش.
[2] صدوق، محمد بن علی، ثواب الأعمال، ص 53، انتشارات شریف رضی، قم، 1364ش.
[3] صدوق، محمد بن علی، ثواب الأعمال، ص 53، انتشارات شریف رضی، قم، 1364ش.
[4] حر عاملی، وسائل الشیعة، ج 10، ص 484، ح 13907، مؤسسة آل البیت، قم، 1409ق.
[5] حر عاملی، وسائل الشیعة، ج 10، ص 484، ح 13908، مؤسسة آل البیت، قم، 1409ق.
[6]ر.ک:وسائل الشیعة، ج 8، باب 5، ص 91.
[7] ر.ک:وسائل الشیعة، ج 3، ص 334، باب 22.
[8] ر.ک:وسائل الشیعة، ج 8، ص 98، باب 6.
[9] ر.ک:وسائل الشیعة، ج 8، ص 24، باب 3.
[10] ر.ک:وسائل الشیعة، ج 14، ص 300، باب 3.
[11] ر.ک:وسائل الشیعة، ج 14، ص 465، باب 50.
[12] ر.ک:وسائل الشیعة، ج 14، ص 565، باب 87.

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
8 + 9 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 41