امام محمد باقر (علیہ السلام) کی ولادت با سعادت

Sun, 04/16/2017 - 11:17

اس نوشتہ میں امام باقر (علیہ السلام) کی ولادت کا مختصر تعارف،آپ کے لقب ’باقر‘ کے معنی اور آپ کے زمانے کے بادشاہ کا ذکر کیا گیا ہے۔

امام محمد باقر (علیہ السلام) کی ولادت با سعادت

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ہوا پیدا جہاں میں ّٓآج وہ ہمنامِ پیغمبر      لقب باقر ہے جسکا اور کنیت ابو جعفر

إمام المتقین,منصوص اور معصوم عالم میں    نبی کا پانچواں ناًٰئب ہمارا پانچواں رہبر

 

حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی (ﷺ) کے پانچویں جانشین، ہمارے پانچویں امام اور سلسلہ عصمت کی ساتویں کڑی ہیں۔ آپ کے والد ماجد سید الساجدین امام زین العابدین (علیہ السلام) ہیں۔ اور آپ کی والدہ ماجدہ ’’اْمَ عبداللہ فاطمہ‘‘ بنت امام حسن (علیہ السلام) ہیں۔ علماء کا اتفاق ہے کہ آپ باپ اور ماں دونوں کی طرف سے علوی اور نجیب الطرفین ہاشمی ہیں۔ نسب کا یہ شرف کسی کو بھی نہیں ملا۔ آپ اپنے آباو اجداد کی طرح امام منصوص، معصوم،اعلم زمانہ اور افضل کائنات تھے۔

آپ کی ولادت:

حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) بتاریخ یکم رجب المرجبٌ ۵۷؁ ہجری یوم جمعہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوے۔ علامہ مجلسی فرماتے ہیں کہ آپُ جب بطن مادر تشریف لائے تو آباء واجداد کی طرح آپ کے گھر میں آواز غیب آنے لگی اور جب نو ماہ کے ہوئے تو فرشتوں کی بے انتھا آوازیں آنے لگیں اور شب ولادت ایک نور ساطع ہوا۔ ولادت کے بعد قبلہ رو ہو کر آسمان کی طرف رخ فرمایا اور جناب آدم کی مانند تین بار چھینکنے کے بعد حند خبا بجا لائے اور ایک شبانہ روز دست مبارک سے نور ساطع رہا ۔
آپ (بھی دیگر اماموں کی مانند) ختنہ کردہ,ناف بریدہ,تمام آلائشوں سے پاک اور صاف متولد ہوئے۔

آپ کا اسم گرامی لوح محفوظ کے مطابق اور سرور کائنات  (ص) کی تعیین کے موافق ’’محمد‘‘ تھا۔  آ پ کی کنیت ’’ابو  جعفر‘‘ ہے اور آپ کے القاب کثیر ہیں جن میں سے باقر،ہادی،شاکر زیادہ مشہور ہیں۔

’’باقر‘‘ کے معنی:
باقر در حقیقت بقر سے مشتق ہے اور اسی کا اسم فاعل ہے۔ اسکے معنی شق کرنے اور وسعت دینے کے ہیں۔ حضرت امام باقر (علیہ السلام) کو اس لقب سے اس کئے ملقب کیا گیا تھا کہ آپ نےعلوم اور معارف کو نمایاں فرمایا اور حقائق احکام و حکمت و لطائف کے وہ کے وہ سربستہ خزانے ظاہر فرما دیئے جو لوگوں پر ظاہر و ہویدا نہ تھے۔
’’توسع فی العلم‘‘ کو بھی بقرہ کہتے ہیں,اسی لئے امام کو یہ لقب عطا ہوا۔

بادشاہان وقت:
آپ ۵۷؁ ہجری میں معاویہ بن ابی سفیان کے عہد میں پیدا ہوئے۔
۶۰؁ھج میں یزید بن معاویہ بادشاہ رہا۔
۶۴؁ھج میں معاویہ بن یزید اور مرواب بن حکم بادشاہ رہے۔
۶۵؁ھج سے ۸۶؁ ھج تک عبد الملک بن مروان حاکم وقت رہا۔
۸۶؁ سے ۹۶؁ھج تک ولید بن عبد الملک نے حکمرانی کی اور اسی نے ۹۵؁ھج میں آپ کے والد کو شہید کیا اور ۹۵ے ھج سے آپ کی امامت کا آغاز ہوا اور ۱۱۴ے ھج تک آپ امامت کے فرائض انجام دیتے رہے۔اسی دوران میں ولید بن عبد الملک, سلیمان بن عبدالملک,عمر بن عبد العزیز,یزید بن عبد الملک اور ہشام بن عبد الملک بادشاہ وقت رہے۔

 

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اقتباس از چودہ ستارے۔ مولانا سید نجم الحسن کراروی صاحب

 

 

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
5 + 0 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 31