ماہ رمضان میں لوگوں سے برتاؤ کے طریقے - خطبہ شعبانیہ کی تشریح

Thu, 06/15/2017 - 19:04
ماہ رمضان میں لوگوں سے برتاؤ کے طریقے - خطبہ شعبانیہ کی تشریح

بسم اللہ الرحمن الرحیم

خطبہ شعبانیہ ماہ رمضان المبارک کی شان و عظمت کے سلسلہ میں ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ماہ رمضان سے پہلے، ماہ شعبان کے آخری جمعہ کو ارشاد فرمایا۔ اس خطبہ کو حضرت امام علی رضا (علیہ السلام) نے اپنے آباء و اجداد سے نقل کرتے ہوئے حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) سے نقل کیا ہے۔ ان سلسلہ مضامین میں اس خطبہ کے فقروں کی تشریح بیان کی جارہی ہے، جن میں سے یہ آٹھواں مضمون ہے۔ رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) فرماتے ہیں کہ "وتَصَدَّقوا عَلى فُقَرائِكُم ومَساكينِكُم، ووَقِّروا كِبارَكُم، وَارحَموا صِغارَكُم، وصِلوا اَرحامَكُم"[1]، "اور اپنے فقیروں اور مسکینوں کو صدقہ دو، اور اپنے بڑوں کا احترام کرو اور اپنے چھوٹوں پر رحم کرو اور اپنے قرابتداروں سے رابطہ رکھو (صلہ رحم کرو)"۔

تشریح
جو شخص بخیل اور کنجوس ہے وہ اپنے آپ کو اور اپنے مال کو دیکھتا رہتا ہے اور اللہ سے رابطہ قائم نہیں کرسکتا۔ جس شخص کو فقیروں اور مسکینوں کے فقر کا دکھ محسوس نہیں ہوتا، اس کا دل سخت ہے، فقیروں اور مسکینوں کو صدقہ دینا، دل کی نرمی کا باعث بنتا ہے۔
صدقہ: اس مال کو کہا جاتا ہے جو اللہ کی راہ میں دیا جاتا ہے۔ دین اسلام میں جیسے مال کو ہر راستے سے کمانا جائز نہیں، اسی طرح ہر راستے میں خرچ کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ خرچ کرنے کے راستوں میں سے ایک بہترین راستہ، اللہ کی راہ میں صدقہ دینا ہے۔
فقیر اور مسکین: حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "الفقير هو المتعفف الذي لا يسأل، والمسكين الذي يسأل"[2]، "فقیر وہ باحیا ہے جو نہیں مانگتا اور مسکین وہ ہے جو مانگتا ہے"۔ خطبہ شعبانیہ میں رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) نے فقیروں اور مسکینوں کا الگ الگ تذکرہ فرمایا ہے، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں توجہ کرنا چاہیے کہ ہمارے اردگرد دو طرح کے ضرورتمند اور محتاج لوگ پائے جاتے ہیں، ایک فقیر اور دوسرے مسکین۔
اللہ کی راہ میں مال دینے کے فضائل: قرآن کریم میں ارشاد الہی ہے: "فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ . وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَىٰ . فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ"[3]، "تو جس نے (راہِ خدا میں) مال دیا اور پرہیزگاری اختیار کی، اور اچھی بات (اسلام) کی تصدیق کی، تو ہم اسے آسان راستہ کیلئے سہو لت دیں گے"۔ خداوند متعال نے قرآن مجید میں دوسرے مقام پر فرمایا ہے: "وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ"[4]، "اور جو کچھ اس کی راہ میں خرچ کرو گے وہ اس کا بدلہ بہرحال عطا کرے گا اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے"۔ پیغمبر اکرم (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) فرماتے ہیں: "مَن تَصَدَّقَ بصَدَقةٍ على رَجُلٍ مِسكينٍ كانَ لَهُ مِثلُ اَجرِهِ، و لَو تَداوَلَها اَربَعونَ اَلفَ إنسانٍ ثُمّ وَصَلَت إلى المِسكينِ كانَ لَهُم اَجرا كامِلاً"[5]، "جو شخس مسکین مرد کے لئے صدقہ اکٹھا کرے تو اس کا اجر صدقہ دینے والے کی طرح ہے اور اگر صدقہ چالیس ہزار انسانوں کے درمیان گھومے، پھر مسکین تک پہنچے تو ان کے لئے مکمل اجر ہے"۔ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا: "ما من شئ إلا وكل به ملك إلا الصدقة ، فانها تقع في يدالله"[6]، "ہر چیز پر فرشتہ موکل ہے سوائے صدقہ پر، کیونکہ صدقہ اللہ کے ہاتھ میں جاتا ہے"۔

بڑوں کا احترام کرنا: بڑوں کے وجود کی نعمت ایسی نعمتوں میں سے ہے کہ جب تک وہ زندہ ہوتے ہیں، تب تک لوگ اس نعمت پر توجہ نہیں کرتے، لیکن جب وہ دارفانی کو الوداع کردیتے ہیں تو ان کی موجودگی کی قدر معلوم ہوجاتی ہے، کتنے گھریلو اور سماجی اختلافات بڑوں کے چلے جانے کے بعد پیدا ہوتے ہیں، جب تک وہ موجود تھے ان کی برکت سے اختلافات پیدا نہیں ہوتے ہیں اور گھرانہ کے تعلقات بہترین طریقہ سے جاری تھے، جیسا کہ نبی اکرم (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) کا ارشاد گرامی ہے: "البركة مع اَكابركم"[7]، "برکت تمہارے بڑوں کے ساتھ ہے"۔ لہذا بڑوں کا احترام کرنا چاہیے، انہوں نے ساری زندگی کی تکلیفیں اور مشقتیں برداشت کرکے اپنی اولاد اور گھرانہ کو ایسی منزل تک پہنچایا ہے کہ ہر کوئی مستقل اور خوشحال زندگی بسر کررہا ہے، یہ بزرگوں کی محنتوں کا نتیجہ ہے، لہذا وہ قابل احترام ہیں۔ جیسے دوسری نیکیوں کا ثواب ہے اسی طرح بڑوں کے احترام کرنے کا بھی ثواب ہے، پیغمبر اکرم (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) فرماتے ہیں: "من عرف فضل شيخ كبير فوقره لسنه آمنه الله من فزع يوم القيامة"[8]، "جو بوڑھے شخص کی فضیلت پہچان لے تو اس کی عمر کی وجہ سے اس کا احترام کرے تو اسے اللہ قیامت کے دن کے خوف سے امان دے گا"۔ یہ نکتہ بھی غورطلب ہے کہ اگر جوان، بزرگوں کی قدر کو نہ پہچانیں اور ان کا احترام نہ کریں تو گھریلو تعلقات اور محبتیں بھی داغدار ہوں گی اور ان کے تجربات سے بھی محروم ہوجائیں گے۔ سب بڑے، لائقِ احترام ہیں، لیکن اگر وہ بزرگ ماں باپ ہوں تو یہ ذمہ داری مزید بڑھ جائے گی اور خاص توجہ کے ساتھ والدین کا احترام کرنا ہوگا اور ان کے حقوق ادا کرنے ہوں گے۔
بچوں پر رحم کرنا:بچوں سے محبت کرنے سے انسان کا دل نرم ہوجاتا ہے اور اللہ کے الطاف کو حاصل کرنے کا راستہ فراہم ہوتا ہے۔ روایات میں بچوں سے رحم کرنے اور ان پر محبت کرنے کی تاکید ہوئی ہے۔ نبی اکرم (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) فرماتے ہیں: "اَحِبُّوا الصِّبْيانَ وَ ارْحَمُوهُمْ ، وَ اِذا وَعَدتُموهُمْ شَيْئا فَفُوا لَهُمْ ، فَاِنَّهُمْ لايَدْرونَ اِلاّ اَنَّـكُمْ تَرْزُقونَهُمْ"[9]، "بچوں سے محبت کرو اور ان پر رحم کرو، اور جب انہیں کسی چیز کا وعدہ دو تو ان کے لئے پورا کرو، کیونکہ وہ تمہارے بارے میں سمجھتے ہیں کہ تم ہی ان کو روزی دیتے ہو"۔
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "اِنَّ اللّهَ‏ لَيَرحَمُ العَبدَ لِشِدَّةِ حُبِّهِ لِوَلَدِهِ"[10]، "بیشک اللہ ضرور بندہ پر رحم کرتا ہے اس کی اپنے فرزند سے محبت کی شدت کی وجہ سے"۔ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "قالَ موسَى بنُ عِمرانَ عليه السلام : يا رَبِّ ، اَيُّ الأَعمالِ اَفضَلُ عِندَكَ ؟ قالَ : حُبُّ الأَطفالِ ؛ فَإِنّي فَطَرتُهُم عَلى تَوحيدي ، فَإِن اَمَتُّهُم اَدخَلتُهُم بِرَحمَتي جَنَّتي"[11]، "موسی ابن عمران (علیہ السلام) نے عرض کیا: اے میرا پروردگار، تیرے نزدیک اعمال میں سے سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ فرمایا: بچوں سے محبت کرنا، کیونکہ میں نے انہیں اپنی توحید پر پیدا کیا ہے، اگر انہیں موت دوں تو اپنی رحمت سے اپنی جنت میں داخل کروں گا"۔
صلہ رحم کرنا: لغوی لحاظ سے "صلہ"، وصل سے ماخوذ ہے جس کے معنی دو چیزوں کا جڑنا ہے، رحم کا مطلب قرابت اور رشتہ داری ہے۔ اصطلاحی لحاظ سے صلہ رحم کا مطلب یہ ہے کہ رشتہ داروں سے رابطہ، ملاقات اور ان کی مدد کرنا چاہیے۔[12] اللہ کے بعض اسماء اور صفات جیسے رحمن اور رحیم، لفظ اور معنی کے لحاظ سے "رَحِم" سے ملتے جلتے ہیں، حدیث قدسی میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے: "أنا الرحمنُ خلقتُ الرَّحم و شققتُ لها اسماً من اسمی فَمَن وَصَلَها وَصَلْتُه وَ مَنْ قَطَعَها قَطَعْتُه"[13]، "میں رحمن ہوں، میں نے رحم کو خلق کیا اور اس کا نام اپنے نام سے نکالا، تو جو شخص صلہ رحم کرے میں اسے (اپنی رحمت سے) متصل کردیتا ہوں (ملادیتا ہوں) اور جو اسے کاٹ دے میں اسے (اپنی رحمت سے) کاٹ دیتا ہوں"۔ روایات سے یہ حاصل ہوتا ہے کہ صلہ رحم کرنا ضروری ہے حتی ان رشتہ داروں سے صلہ رحم کرنا ضروری ہے جو کافر ہوں، لہذا ان کا کفر، صلہ رحم کرنے سے رکاوٹ نہیں بنتا۔[14] صلہ رحم کرنے میں جوابی اور انتقامی کاروائی منع ہے، یعنی اگر ہمارے کسی  رشتہ دار نے ہم سے رابطہ بند کردیا ہے تو ہمیں رابطہ بند کرنے کی اجازت نہیں ہے۔[15]صلہ رحم کرنے والے کو صلہ رحم کرنے کے لئے ہر قدم اٹھانے کے بدلہ بہت ثواب اور درجات عطا ہوتے ہیں۔[16]
نتیجہ: روزہ دار کو روزہ داری کے ساتھ ساتھ دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کا خیال بھی رکھنا چاہیے۔ صدقہ دینا، بڑوں کا احترام، چھوٹوں پر رحم کرنا اور رشتہ داروں سے صلہ رحم کرنا ایسی معاشرتی ذمہ داریاں ہیں جن پر اسلام نے بہت تاکید کی ہے۔ اسلام کی ان تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر انفرادی سماجی تعلقات کو بہتر بنایا جاسکتا ہے، جس کی بنیاد پر معاشرتی مشکلات کم ہوجائیں گی اور معاشرہ اپنے ترقی و کمال کی طرف بڑھتا ہوا کامیابی کی منازل کو طے کرے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:

[1] عيون أخبار الرضا (علیہ السلام)، شیخ صدوق، ج2، ص265.
[2] التفسير الصافی، فیض کاشانی، ج2، ص351۔
[3] سورہ لیل، آیات 5 سے 7 تک۔
[4] سورہ سبا، آیت 39۔
[5] میزان الحکمہ، محمدی ری شہری، ج6، ص237۔
[6] بحارالانوار، علامہ مجلسی، ج96، ص128۔
[7] بحارالانوار، ج72، ص137۔
[8] بحارالانوار، ج72، ص137۔
[9] كافى ، ج6، ص49، ح3۔
[10] كافى ، جلد6، ص50۔
[11] بحار الأنوار، ج104، ص97، ح57۔
[12] ماخوذ از: صلة الرحم و قطیعتها، طاهری خرم آبادی، ص12۔
[13] بحارالانوار ج47 ص187۔
[14] مزید تفصیل کے لئے دیکھیے: کافی، ج3، ص229۔
[15] مزید تفصیل کے لئے دیکھیے: کافی، ج3، ص722۔
[16] مزید تفصیل کے لئے دیکھیے: بحارالانوار، علامہ مجلسی، ج71، ص89۔

kotah_neveshte: 

خلاصہ: خطبہ شعبانیہ کی تشریح کرتے ہوئے ان فقروں کی تشریح کی گئی ہے جن میں رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) نے ایسی نصیحتیں فرمائی ہیں جو دوسروں سے برتاو اور سلوک کے بارے میں ہیں۔ اگر روزہ دار شخص ان باتوں کا خیال رکھے تو معاشرہ کی ترقی و کمال میں مزید اضافہ ہوگا اور خود روزہ دار کی نیکیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
3 + 6 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 37