ابوسفیان کی اولاد پر خلافت حرام ہے

Mon, 09/25/2017 - 08:10

خلاصہ: رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) نے اللہ تعالی کے حکم سے ابوسفیان کی اولاد پر خلافت کو حرام قرار دیا اور اس کے ساتھ لوگوں کو یہ حکم بھی دیا کہ جب معاویہ کو میرے منبر پر دیکھو تو اس کا پیٹ پھاڑ دینا، لیکن افسوس لوگوں نے اس حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے، اس بات میں کوئی فرق نہ سمجھا کہ پیغمبر اکرم (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) کے منبر پر چاہے خود آنحضرتؐ بیٹھیں یا معاویہ جیسا شخص بیٹھے جس پر اللہ نے خلافت حرام کی ہوئی ہے۔

ابوسفیان کی اولاد پر خلافت حرام ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم

جب مروان ابن حکم نے حضرت امام حسین (علیہ السلام) کو یزید سے بیعت کرنے کی تجویز دی تو آپؑ نے اسے جو جواب دیا، اس کے چند فقرے یہ تھے: "وَ لَقَدْ سَمِعْتُ جَدِّي رَسُولَ اللَّهِ صلّى الله عليه و آله يَقُولُ: الْخِلافَةُ مُحَرَّمَةٌ عَلى آلِ أَبِي سُفْيانَ فَإِذا رَأَيْتُمْ مُعاوِيَةَ عَلى‌ مِنْبَرى فَابْقِرُوا بَطْنَهُ وَقَدْ رَآهُ اهْلُ الْمَدينَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَلَمْ يَبْقَرُوا فَابْتَلاهُمُ اللَّهُ بِيَزيدَ الْفاسِقِ‌"، اور یقیناً میں نے اپنے نانا رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ) سے سنا کہ آپؐ فرماتے تھے: خلافت ابوسفیان کی اولاد پر حرام ہے تو جب تم لوگ معاویہ کو میرے منبر پر دیکھو تو اس کا پیٹ پھاڑ دینا اور یقیناً مدینہ والوں نے اسے اس منبر پر دیکھا تو اس کا (پیٹ) نہ پھاڑا لہذا اللہ نے ان کو فاسق یزید میں مبتلا کردیا"۔ [سخنان حسین بن علی (علیہماالسلام) از مدینہ تا کربلا، ص۳۹)۔ اس حدیث میں رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) نے امت کو پشینگوئی کردی جس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ ابوسفیان کی اولاد خلافت کرے گی تو آنحضرتؐ نے حکم الٰہی کا اعلان کردیا کہ خلافت ابوسفیان کی اولاد پر حرام ہے لہذا آپؐ نے لوگوں کو یہ حکم دیدیا کہ جب  لوگ ابوسفیان کے بیٹے معاویہ کو آپؐ کے منبر پر دیکھیں تو اس کا پیٹ پھاڑ دیں۔ اگر لوگ اس فرمانِ رسالت پر عمل  کرتے تو ظلم و کفر کی روک تھام ہوجاتی۔ حضرت امام حسین (علیہ السلام) نے اپنے ان بیانات میں حالات حاضرہ کا پیش خیمہ بتادیا ہے کہ اب لوگوں پر یزید کیوں حکومت کرپارہا ہے؟ کیونکہ رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) نے لوگوں کو جو حکم دیا تھا، اہل مدینہ نے اس حکم کی نافرمانی کی تو اللہ نے ان کو فاسق یزید کی حکومت میں مبتلا کردیا ہے۔ اب کیا ایسے یزید سے حسین ابن علی (علیہماالسلام) بیعت کرلیں؟ یعنی اس کی خلافت کو جائز سمجھ لیں جبکہ اس پر تو خلافت حرام ہے اور اس کے باپ پر بھی حرام تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ:
[ماخوذ از: سخنان حسین بن علی (علیہماالسلام) از مدینہ تا کربلا، تصنیف: آیت اللہ محمد صادق نجمی)

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
1 + 0 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 40