مومنین صرف اللہ پر توکل کرتے ہیں

Sat, 12/02/2017 - 08:28

خلاصہ: توکل اور بھروسہ قرآن کریم میں مختلف آیات میں ذکر ہوا ہے۔ قرآن کریم نے اللہ پر توکل کرنے کا حکم دیا ہے، توکل کا ایمان سے گہرا تعلق ہے، یعنی مومن ہی اللہ پر توکل کرسکتا ہے۔

مومنین صرف اللہ پر توکل کرتے ہیں

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سورہ آل عمران کی آیت 160 میں ارشاد الہی ہے: "وَعَلَى اللَّہِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ"، "اور صاحبانِ ایمان کو صرف خدا پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے"۔
توکل کا مطلب یہ ہے کہ بندہ، اللہ کو اپنے کام میں وکیل سمجھے۔ جس شخص نے اللہ پر توکل کیا ہو وہ اپنے کاموں کو اللہ کے حوالے کرتا ہے اور اسباب کو اپنے کاموں میں مستقل طور پر اثرانداز نہیں سمجھتا، بلکہ ان کو صرف وسیلہ سمجھتا ہے۔
توکل اور بھروسہ ایسی کیفیت ہے کہ انسان کا دل اللہ پر اعتماد کرتا ہے، یہاں تک کہ اپنے سب مسائل کو اللہ کے حوالے کرتا ہوا دیگر سب طاقتوں سے ناامید رہتا ہے اور صرف ایک قدرت یعنی اللہ سے وابستہ رہتا ہے۔ البتہ انسان میں ایسی کیفیت کا پیدا ہونا اس پر موقوف ہے کہ انسان ایمان اور یقین کرجائے کہ اللہ کی طاقت کے علاوہ اس کائنات میں کوئی طاقت کسی چیز پر اثرانداز نہیں ہے اور سب طاقتیں اور اسباب و وسائل اللہ تعالی کے زیرِقدرت ہیں اور ہر چیز اللہ کے ارادہ سے اثرانداز ہوتی ہے اور یہ درحقیقت توحید کے مراتب میں سے ایک رتبہ ہے۔
لہذا توکل کی بنیاد توحید ہے اور توحید کے بغیر یعنی اللہ کو وحدہ لاشریک سمجھنے کے بغیر، انسان میں توکل پیدا نہیں ہوسکتا۔ اسی لیے بعض علمائے اخلاق نے توحید اور توکل کو ایک دوسرے کے ساتھ بیان کیا ہے۔
اگر ایسی کیفیت انسان کے دل میں پیدا نہ ہو تو اس کی وجہ یا ایمان اور یقین کی کمزوری ہے یا نفس اور قلب کی کمزوری، جس کی وجہ سے خیالات کی بنیاد پر اس شخص پر خوف طاری ہوجاتا ہے اور اسے اللہ پر بھروسہ اور توکل کرنے سے روک لیتا ہے۔
توکل کی مذکورہ بالا وضاحت سے معلوم ہوجاتا ہے کہ ایمان کی کمزوری اور قوت کا توکل کی کمزوری اور قوت سے گہرا تعلق ہے، کیونکہ یہ حقیقت واضح ہے کہ اگر انسان کا اللہ پر ایسا ایمان ہو کہ اللہ کو کائنات کا خالق سمجھے اور صرف اسی کو ہر چیز پر موثر (اثرانداز) سمجھے تو غیراللہ کی طرف توجہ ہی نہیں کرے گا اور اپنی سب حاجات اسی سے طلب کرے گا اور مشکلات میں صرف اسی کی طرف رجوع کرے گا۔
پھر دیکھے گا کہ اللہ نے اسے کیا حکم دیا ہے کہ کس کو میری بارگاہ میں وسیلہ بنا کر مجھے پکارو اور کن ذرائع کو استعمال کرو تاکہ تمہاری مشکل کو میں حل کردوں۔
جب یہ شخص خدا کے مقرر کیے ہوئے وسیلہ کے ذریعہ اللہ کو پکارے گا اور مشکل کے حل کے لئے جو راستہ اللہ تعالی نے بتایا ہے اس کو استعمال کرے گا تو پھر اگر اس کی مشکل حل ہوگئی اور اس کی دعا مستجاب ہوگئی تو اس پر اللہ کا شکر کرے گا اور اگر دعا قبول نہ ہوئی اور مشکل حل نہ ہوئی تو کسی مخلوق پر اعتراض اور شکوہ نہیں کرے گا، کیونکہ ذرائع اور وسائل کو استعمال کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ذرائع اپنے طور پر اس کی مشکل کو حل کرسکتے ہیں، بلکہ اس کا ایمان اور یقین اس بات پر ہے کہ مشکل کو حل تو صرف اللہ ہی کرسکتا ہے، اگر اللہ تعالی ان وسائل کو اذن اور طاقت دے گا تو یہ مشکل حل ہوگی، لہذا ہر حال میں اللہ پر بھروسہ اور توکل رکھے گا۔ سورہ طلاق کی آیت 3 میں ارشاد الہی ہے: "وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّہِ فَهُوَ حَسْبُهُ"، "اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو وہ (اللہ) اس کے لئے کافی ہے"۔

 

 

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
5 + 7 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 37