شب قدر اور سورہ قدر

Sun, 06/03/2018 - 14:57
شب قدر اور سورہ قدر

 

           شب قدر کی  فضیلت کا اندازہ لگانے کیلئے یہی ایک بات کافی ہے کہ قرآن مجید میں اس رات کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے ایک مستقل سورہ نازل کیا گیا۔ بہت کم ایسا ہوا ہے کہ کسی ایک ہی موضوع پر پورا سورہ نازل کیا گیا ہو۔ یہ شب قدر کی خصوصیت ہے کہ اس کی شان میں پورا سورہ نازل کیا گیا۔
          سورہ قدر کے شان نزول سے بھی شب قدر کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ اس سورہ کے شان نزول کے بارے میں حضرات مفسرین نے مختلف روایات نقل فرمائی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایک مرتبہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے بنی اسرائیل کے ایک مجاہد کا حال ذکر کیا جو ایک ہزار مہینہ تک مسلسل مشغول جہادر رہا اور کبھی ہتھیار نہیں اتارا۔ مسلمانوں کو یہ سن کر تعجب ہوا اور اصحاب نے رسول سے اس شرف کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے عرض کیا، کاش یہ شرف ہم کو بھی مل جاتا، چنانچہ یہ سورہ نازل ہوا جس میں اس امت کیلئے صرف ایک رات کی عبادت کو اس مجاہد کی عمر بھر کی عبادت یعنی ایک ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا(تفسیر نمونہ، ج27، ص183)
          اسکے علاوہ ایک روایت اور بھی نقل ہوئی ہے وہ یہ کہ بنی اسرائیل میں ایک عابد کا حال یہ تھا کہ ساری رات عبادت میں مشغول رہتا اور صبح ہوتے ہی جہاد کیلئے نکل کھڑا ہوتا اور دن بھر جہاد میں مشغول رہتا۔ اس نے ایک ہزار مہینے اسی طرح عبادت میں گذاردیئے۔ اس پراصحاب نے رسول اسلام سے اس طرح کے شرف کی خواہش ظاہر کی چنانچہ اللہ نے سورہ قدر نازل فرما کر اس امت کی فضیلت سب پر ثابت فرمادی(تفسیر نمونہ، ج72، ص183)۔
          لیکن افسوس ! جب ہم اس تعلق سے مسلمان کے حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اکثر لوگ اس رات کی اہمیت سے بالکل بے خبر ہیں، عام راتوں کی طرح ان راتوں کو بھی گزار دیتے ہیں، طرفہ تماشہ یہ کہ کچھ لوگ ان مبارک راتوں میں اللہ کی نافرمانی اور کفر وعصیان کے کاموں میں لگے رہتے ہیں۔

 

منبع و ماخذ
تفسیر نمونہ،  مكارم شيرازى ناصر ، انتشارات دار الكتب الإسلامية ، تهران، چاپ اول1374 ش۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
9 + 0 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 4