سلام کا مفہوم اور سلام کے صفات

Wed, 07/11/2018 - 16:04

خلاصہ: روزانہ ہم لوگ کتنے افراد کو سلام کرتے ہیں، مگر ساتھ اس بات پر بھی توجہ کرنا چاہیے کہ سلام کا کیا مطلب ہے۔

سلام کا مفہوم اور سلام کے صفات

بسم اللہ الرحمن الرحیم

زیارت جامعہ کبیرہ کے پہلے فقرہ میں حضرت امام علی النقی (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں: "السلام علیکم یا اھل بیت النبوّۃ"۔
حضرتؑ کے اس فقرہ کے سلسلہ میں گفتگو سے پہلے سلام کے بارے میں کچھ مطالب پیش کیے جارہے ہیں۔
سلام کا مفہوم: عرب لغت میں سلام کے مختلف معانی ہیں اور ان میں اصل معنی "سلامتی" کے معنی ہیں۔ یعنی سلامت رہنا وہ بھی ہر لحاظ سے۔ جسمانی سلامتی اور بیماری سے محفوظ رہنا، معنوی سلامتی اور دینی امور میں گمراہی و ضلالت سے بچے رہنا، ناگوار حادثات کے نقصان سے محفوظ رہنا، شیطانی وسوسوں کے شرّ اور اخلاقی بیماریوں سے بچ کر رہنا، معاشرتی بدامنی وغیرہ وغیرہ سے حفاظت میں رہنا، یہ سب کچھ ایک مختصر جملہ "سلامٌ علیکم" میں پایا جاتا ہے۔

سلام کے صفات: ملاقات کرتے ہوئے اسلامی سلام کرنے میں درود، تحیّت اور ادب و احترام ہونے کے ساتھ ساتھ دعا اور نُصح (خیرخواہی، خالص محبت) بھی پائی جاتی ہے اور  ہر طرح کی سلامتی کی دعا طلب کی جاتی ہے اور نیز صلح و امان کی خبر بھی ہے۔ جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے ملاقات کرتے ہوئے پہلے لمحے میں اسے کہتا ہے: "سلام علیکم" تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے بھائی! میری طرف سے مطمئن رہو، میں تمہارا خیرخواہ اور سلامتی کا طلبگار ہوں، میں تم سے صلح کی حالت میں ہوں، میری طرف سے تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، تم سے دھوکہ نہیں کروں گا، تم سے خیانت نہیں کروں گا، تمہیں نقلی چیز نہیں بیچوں گا، تمہیں جھوٹ نہیں بولوں گا، تمہاری جان، مال اورعزت و ناموس میری طرف سے امن و امان میں ہے اورمیں ہرگز تمہاری سلامتی اور فائدے کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھاؤں گا۔

kotah_neveshte: 

خلاصہ تحریر نہیں کیا گیا مزید عنوان میں صرف سلام کا مفہوم اور سلام کے صفات - رکھیں  زیارت جامعہ کبیرہ کی تشریح کو کلید واژه  میں ڈال دیجئے 

ممنون

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
11 + 2 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 37