نعمتوں کی تکمیل کے تواتر پر اللہ کی ثناء، خطبہ فدکیہ کی تشریح

Sat, 01/19/2019 - 12:19

خلاصہ: خطبہ فدکیہ کی تشریح کرتے ہوئے یہ بارہواں مضمون پیش کیا جارہا ہے۔ حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) نے خطبہ شروع کرتے ہوئے اللہ کی حمد و ثناء کی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر صلوات بھیجی، یہ سن کر لوگ دوبارہ رونے لگ گئے، جب انہوں نے خاموشی اختیار کی تو آپؑ نے دوبارہ اپنا خطبہ آغاز کیا۔

 نعمتوں کی تکمیل کے تواتر پر اللہ کی ثناء، خطبہ فدکیہ کی تشریح

راوی کا کہنا ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) نے فرمایا: " اَلْحَمْدُلِلّهِ عَلی ما أنْعَمَ وَ لَهُ الشُّكْرُ عَلی ما أَلْهَمَ وَ الثَّناءُ بِما قَدَّمَ مِنْ عُمُومِ نِعَمٍ اِبْتَدَاَها وَ سُبُوغِ آلاءٍ أسْدٰاهٰا وَ تمٰامِ مِنَنٍ أوْلاهٰا"…، "ساری حمد (تعریف) اللہ کے لئے ہے ان نعمتوں پر جو اس نے عطا فرمائیں اور صرف اس کا شکر ہے اس (اچھی سمجھ) پر جو اس نے الہام کی (دل میں ڈالی) اور اس کی ثناء ہے ان ہمہ گیر نعمتوں پر جو اس نے ابتدائی طور پر عطا کیں اور ان نعمتوں کی وسعت پر جو اس نے عطا کیں اور نعمتوں کی تکمیل تواتر سے کی"…۔  [احتجاج، طبرسی، ج1، ص131، 132]

تشریح:
عربی زبان میں نعمت کے لئے تین لفظ استعمال ہوتے ہیں: "نعمت"، "اَلا" اور "مِنّت"، ان کے جمع "نِعَم"، "آلاء" اور "مِنَن" ہیں۔ ان کے درمیان باریک اور ظریف سے فرق پائے جاتے ہیں۔نِعَم سب نعمتوں اور ہر اُس چیز کو کہا جاتا ہے جو طبیعت سے موافق ہو اور اس کے معنی عام ہیں۔ آلاء وہ نعمتیں ہیں جو نعمت لینے والے کی ضرورت کو مکمل طور پر پورا کردیتی ہیں۔ مِنَن اُن نعمتوں کو کہا جاتا ہے جو بہت بڑی اور قیمتی ہوں۔
آپؑ نے پہلے نعم، پھر آلاء اور پھر مِنَن کے لفظ استعمال فرمائے ہیں، یعنی اگلے لفظ ترتیب کے ساتھ زیادہ معنی کے حامل ہیں۔ یہ کلام کی فصاحت کے مراتب میں سے ہے کہ جب چند مرادف الفاظ استعمال ہوتے ہیں تو کلام رفتہ رفتہ کم سے زیادہ کی طرف جاتا ہے۔
ان فقروں میں نعمتوں کی "عطا" کے لئے بھی مختلف الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو اس بات کی دلیل ہیں کہ کلام کرنے والی ہستی، کلام، الفاظ اور ان کی ترکیب پر کتنی مسلّط تھی!۔
أوْلاهٰا: "اولی النعمۃ" یعنی نعمت عطا کی۔ اس لفظ کے مختلف معانی ہیں جن میں سے ایک "کسی کام کو مکمل طور پر انجام دینا" ہے۔ بعض نسخوں میں "والاھا" ہے۔"والا" یعنی اس کے بعد بھی لانا، اگر "والاھا" ہو تو اس میں ایک ظریف نکتہ یہ ہے کہ جب اللہ کسی کو کوئی نعمت عطا فرمائے تو اسی مقدار پر اکتفاء نہیں کرتا، بلکہ اس کے بعد زیادہ بڑی اور بھاری نعمت عطا فرماتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
[احتجاج، طبرسی]
[شرح خطبہ فدکیہ، آیت اللہ مصباح یزدی]

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
8 + 9 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 32