ثواب اور عذاب مقرر کرنے کا مقصد، خطبہ فدکیہ کی تشریح

Thu, 02/21/2019 - 06:56

خلاصہ: خطبہ فدکیہ کی تشریح کرتے ہوئے چوالیسواں مضمون تحریر کیا گیا ہے۔ ثواب اور عذاب مقرر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی سزا سے بچائے اور انہیں جنت بھیجے۔

ثواب اور عذاب مقرر کرنے کا مقصد

    حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) نے خطبہ فدکیہ میں ارشاد فرمایا: "... ثُمَّ جَعَلَ الثَّوَابَ عَلَى طَاعَتِهِ، وَ وَضَعَ الْعِقَابَ عَلَى مَعْصِيَتِهِ، ذِيَادَةً لِعِبَادِهِ مِنْ نَقِمَتِهِ وَ حِيَاشَةً لهُمْ إِلَى جَنَّتِهِ"پھر اللہ نے ثواب کو اپنی اطاعت کے لئے قرار دیا، اور عذاب کو اپنی نافرمانی کے لئے رکھا، اپنے بندوں کو اپنی سزا سے بچانے کے لئے اور انہیں اپنی جنت کی طرف روانہ کرنے کے لئے"۔
"ذیادۃ": "ذاد، یذود" سے ہے، یعنی منع کرنا۔ "ذائد" یعنی مانع اور رکاوٹ، اور جو شخص دشمنوں کے سامنے رکاوٹ بنتا ہے اور ان کو روکتا ہے اسے "ذائد" کہا جاتا ہے۔ "حیاشۃ":  "حاش یحوش" سے ہے، یعنی اکٹھا کرنا۔
ثواب اور عذاب کو اطاعت اور نافرمانی کے لئے مقرر کرنا، اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وجہ سے ہے۔ وہ اپنے بندوں کے لئے اس بات کو اس قدر پسندکرتا ہے کہ وہ اس کی رحمت کو حاصل کرنے کے لائق بنیں۔ یہ لیاقت اور صلاحیت اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور نافرمانی سے پرہیز کرنے کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ سب لوگ جہنم سے بچ کر جنت میں جائیں، مگر بعض لوگ اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی کرکے اپنے آپ کو جہنمی بناتے ہیں، لہذا جنت یا جہنم جانے میں لوگوں کو اختیار دیا گیا ہے، البتہ ایمان اور اعمال کے امتحان میں انسان اپنا اختیار استعمال کرتا ہوا، جنت یا جہنم کو انتخاب کرسکتا ہے۔ بنابریں کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ تعالیٰ مجھے جہنم کیوں بھیجے گا؟ اللہ تعالیٰ تو جہنم نہیں بھیجنا چاہتا، بلکہ انسان خود اپنے اختیار سے جہنمی بنتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
[احتجاج، طبرسی]
[سحر سخن و اعجاز اندیشہ، محمد تقی خلجی]
[شرح خطبه حضرت زهرا (سلام الله علیها)، آیت اللہ آقا مجتبی تہرانی]

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
2 + 1 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 27