جوان دو متضاد قوتوں کے درمیان

Sat, 07/27/2019 - 08:38

خلاصہ:  ایک جوان تقوی اور صبر کے ذریعہ ہی کامیاب ہوسکتا ہے۔

جوان دو متضاد قوتوں کے درمیان

     ایک جوان ہمیشہ دو متضاد قوتوں کے درمیان گھرا ہوا ہوتا ہے۔
     ایک طرف اس کا اخلاقی اور الہی ضمیر ہے جواسے نیکیوں کی طرف ترغیب دلاتا ہے۔
     دوسری طرف نفس امارہ اورشیطانی وسوسے اسے خواہشات نفسانی کی تکمیل کی دعوت دیتے ہیں۔
     عقل و شہوت، نیکی و فساد، پاکی و آلودگی کی اس جنگ میں وہی جوان کامیاب ہوسکتا ہے جو ایمان اور تقوی کے اسلحہ سے لیس ہو۔
     یہی تقوی تھا کہ حضرت یوسف(علیہ السلام)  مصمم ارادہ سے الہی امتحان میں سربلند ہوئے اور پھر عزت و عظمت کی بلندیوں کوچھوا۔ 
     قرآن کریم حضرت یوسف(علیہ السلام) کی کامیابی کو دو اہم چیزوں کو قرار دیتا ہے، ایک تقوی اور دوسرے صبر«إِنَّهُ مَنْ يَتَّقِ وَ يَصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لا يُضيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنينَ[سورۂ یوسف، آیت:۹۰] اور جو کوئی بھی تقوی اور صبر اختیار کرتا ہے، اللہ نیک اعمال کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا ہے»۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
4 + 2 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 37