وہابیت اور بقیع کا انہدام

Sat, 08/03/2019 - 22:21

وہابیوں نے قبرستان بقیع پر کئی حملے کیے گئے مگر مکمل طور پر 8/ شوال 1344ھ میں سعودی جب مدینہ پر آخری بار قابض ہوئے قبرستان کو تباہ و منہدم کر کے تمام قیمتی سامان غارت کر کے چوری کر کے لے گئے؛وہابیوں کے اس اقدام نے دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مجروح کیے اور جب دنیا بھر میں ان کے اس گھناؤنے عمل کے خلاف اعتراضات ہوئے اور لوگوں نے اپنے غصے اور آل سعود سے نفرت کا اظہار کیا تو وہ مکمل منصوبہ بندی کے باوجود حرم نبوی کو منہدم کرنے کی جراّت نہ کر سکے۔

وہابیت اور بقیع کا انہدام

انہدام جنت البقیع ان واقعات کی طرف اشارہ ہے جن میں وہابیوں نے مدینہ منورہ کا محاصرہ کرکے وہاں موجود قبرستان بقیع اور اس پر بنائے گئے مختلف روضوں کو خراب کر دیا۔ ان بارگاہوں میں امام حسنؑ، امام سجادؑ، امام باقرؑ اور امام صادقؑ کے مزارات شامل ہیں۔ وہابیوں کے ہاتھوں جنت البقیع دو بار تخریب ہوئی؛ پہلی بار سنہ 1220ھ میں اور دوسری بار سنہ 1344ھ میں۔ یہ کام انہوں نے مدینہ کے 15 مفتیوں کے فتوے پر عمل کرتے ہوئے انجام دیا جس میں قبور پر بارگاہیں بنانے کو بدعت قرار دیتے ہوئے ان کی تخریب کو واجب قرار دیا تھا۔ جنت البقیع کے انہدام پر ایران نے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ایک دن سوگ کا اعلان کیا اور سعودی عرب کی تازہ تاسیس حکومت کو تسلیم کرنے میں تین سال کی تأخیر لگا دی۔ شیعیان جہان ہر سال 8 شوال کو "یوم انہدام جنۃ البقیع" مناتے ہوئے اس کام کی پر زور مذمت اور سعودی عرب کی موجودہ حکومت سے اس قبرستان کی فی الفور تعمیر کا مطالبہ کرتے ہیں۔
تخریب کے بعد جنت البقیع ایک مسطح زمین میں تبدیل ہو گئی ہے لیکن شیعوں کے چار اماموں کے قبور کی جگہ اب بھی قابل تشخیص ہیں۔ شیعہ علماء اور ایرانی حکومت کی جانب سے ائمہ بقیع پر باگاہوں کی تعمیر اور جنت البقیع کے قبرستان کے ارد گرد چاردیواری کا مطالبہ سعودی عرب کی جانب سے تسلیم کرنے کے باوجود اب تک عملی نہیں ہو پایا۔
شیعہ علماء نے جنت البقیع پر احتجاج اور اس واقعے کی مذمت کے علاوہ اس پر مختلف کتابیں بھی لکھی ہیں جن میں مذہبی مقامات کی تخریب کے سلسلے میں وہابیوں کے نظریات پر تنقید کرتے ہوئے وہابیوں کو مذہبی نظریات کی بنیاد پر مذہبی مقامات تخریب کرنے والا پہلا گروہ قرار دیئے ہیں۔ من جملہ ان کتابوں میں سید محسن امین کی کتاب کشف الإرتیاب اور محمد جواد بلاغی کی کتاب دعوۃ الہدی قابل ذکر ہیں۔
منابع:امینی، محمد امین، بقیع الغرقد، تہران، مشعر، ۱۳۸۶ش۔البلاغی، محمد جواد، الردّ علی الوہابیۃ، تحقیق سید محمد علی الحکیم، بیروت، مؤسسۃ اہل البیت لإحیاء التراث، ۱۴۱۹ق/۱۹۹۸ء۔

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
14 + 1 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 46