وبائی امراض سے دوری اور خانه نشینی

Wed, 03/25/2020 - 14:27

خلاصہ: وبائی امراض سے دوری اور خانہ نشینی ہی بہتر ہے

وبائی امراض سے دوری اور خانه نشینی

عن محمد بن مسلم قال : قلت له ـ اي ابا جعفر عليه السلام  ـ : وباء اذا وقع على  الأرض انعتزل ؟ قال : « وما بأس ان تعتزل الوباء ؟ وقد قال رسول الله ( صلى الله عليه وآله )  لرجل اخبره انه كان في دار فيها اخوته فماتوا ولم يبق غيره : ارتحل منها و هي ذميمة.
محمد بن مسلم کہتے ہیں: میں نے امام باقر علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی: جب ایک جگہ وبا پھوٹ پڑے تو کیا ہم لوگ خانہ نشینی اور گوشہ نشینی اختیار کریں اور لوگوں سے کنارہ کشی کر لیں؟
امام علیہ السلام نے فرمایا: اس میں کیا حرج ہے کہ اس وبائی مرض سے دوری اور کنارہ کشی اختیار کرو۔ چونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک شخص کو جس نے آپ(ص) کو یہ خبر دی تھی کہ وہ اپنے گھر میں اپنے بھائیوں(خاندان والوں) کے ھمراہ رہتا تھا اور (ایک موذی وبائی مرض کی وجہ سے) اس کے سب بھائی(خاندان والے) مر گئے اور وہ صرف زندہ بچا ہے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے فرمایا تھا: "اس گھر سے دور ہو جائو چونکه اب یہ گھر مذموم(یعنی اس حالت میں اس گھر میں رہنا قابل مذمت) ہے"۔

 مستدرك الوسائل  جلد : ۲  صفحه : ۹۶ باب جواز الفرار من مكان الوباء والطاعون إلاّ مع وجوب الإِقامة فيه كالمجاهد والمرابط.

Add new comment

Plain text

  • No HTML tags allowed.
  • Web page addresses and e-mail addresses turn into links automatically.
  • Lines and paragraphs break automatically.
5 + 4 =
Solve this simple math problem and enter the result. E.g. for 1+3, enter 4.
www.welayatnet.com
Online: 41