عقاید

شیعوں کا تقیہ کی طرف زیادہ رجحان کے عوامل و اسباب
07/26/2019 - 08:54

اہل تشیع حضرات دوسرے مذاہب سے زیادہ تقیہ پر عمل کرنے کے حوالے سے مشہور ہیں۔ اس کی وجہ بعض شیعہ فرقوں میں باطن گرائی کی طرف میلان اور مختلف ادوار میں سماجی، ثقافتی اور اقتصادی طور پر مختلف حوالے سے ان کے خلاف ہونے والے اقدامات ہیں۔ اہل سنت کے بعض علماء تقیہ کو شیعوں کی کمزوری خیال کرتے ہیں جبکہ شیعہ علماء اس کا جواب دیتے آئے ہیں اور اس بات سے موافقت نہیں کرتے ہیں۔

تقیہ اور سیرت نبویؐ
07/26/2019 - 08:14

’’حدیث رفع ‘‘اور حدیث ’’لاضرر ‘‘ وغیرہ تقیہ کے جواز پر اہم ترین دلائل میں شمار ہوتی ہیں، اسی طرح وہ احادیث جو جھوٹ اور " توریہ" کو خاص موارد میں تجویز کرتی ہیں، جیسے "کتمان" سے مربوط احادیث وغیرہ بھی تقیہ کی مشروعیت پر بہترین دلیل ہے اسی طرح اکراہ سے متعلق احادیث بھی تقیہ پر دلیل بننے کی صلاحیت رکھتی ہیں؛من جملہ اسکے مندرجہ ذیل نوشتہ بھی ملاحظہ فرمائیں۔

تقیہ کے جواز پر قرآنی دلائل
07/24/2019 - 20:22

تقیہ کی جواز پر بہت ساری قرآنی، روایی اور عقلی دلائل کے علاوہ اجماع بھی اس کے جواز پر دلیل ہے۔

تقیہ
07/24/2019 - 19:48

تَقیہ ایک دینی اصطلاح ہے جس کے معنی کسی خاص مواقع پر اپنے قلبی عقیدے کے برخلاف کسی عقیدے کا اظہار کرنا یا کسی کام کو انجام دینے کے ہیں۔

اللہ کسی چیز کے اوپر ہونے سے پاک و منزہ
07/04/2019 - 18:53

خلاصہ: نہج البلاغہ کی تشریح کرتے ہوئے اس فقرے پر گفتگو ہورہی ہے جس میں اللہ کا کسی چیز کے اوپر ہونے کی نفی کی جارہی ہے۔

 فلسفہ امامت اور صفات امام
07/04/2019 - 13:22

اٴَحْییٰ بِهِمْ دینَهُ، َواَٴتَمَّ بِهِمْ نُورَهُ،۔۔۔۔۔۔۔اوصیائے (الٰہی) وہ افراد ہیں جن کے ذریعہ خداوندعالم اپنے دین کو زندہ رکھتا ہے، ان کے ذریعہ اپنے نور کو مکمل طور پر نشر کرتا ہے، خداوندعالم نے ان کے اور ان کے (حقیقی) بھائیوں، چچا زاد (بھائیوں) اور دیگر رشتہ داروں کے درمیان واضح فرق رکھا ہے کہ جس کے ذریعہ حجت اور غیر حجت نیز امام اور ماموم کے درمیان پہچان ہوجائے۔ اور وہ واضح فرق یہ ہے کہ اوصیائے الٰہی کو خداوندعالم گناھوں سے محفوظ رکھتا ہے اور ان کو ہر عیب سے منزہ، برائیوں سے پاک اور خطاؤں سے دور رکھتا ہے، خداوندعالم نے ان کو علم و حکمت کا خزانہ دار اور اپنے اسرار کا رازدار قرار دیا ہے اور دلیلوں کے ذریعہ ان کی تائید کرتا ہے۔ اگر یہ نہ ہوتے تو پہر تمام لوگ ایک جیسے ہوجاتے، اور کوئی بھی امامت کا دعویٰ کر بیٹھتا، اس صورت میں حق و باطل اور عالم و جاہل میں تمیز نہ ہوپاتی۔[الغیبة، طوسی، ص 288، ح 246۔]

مشیت الٰہی اور رضائے اہل بیت علیہم السلام
06/27/2019 - 06:05

قُلُوبُنٰا اٴَوعِیَةٌ لِمَشِیَّةِ اللهُ، فاِذَا شَاءَ اللهُ شِئنَا، وَاللهُ یَقُولُ: ( وَ مٰا تْشٰاوٴُونَ إِلّا اٴَنْ یَشٰاءَ اللهُ )؛”ہمارے دل مشیت الٰہی کے لئے ظرف ہیں، اگر خداوندعالم کسی چیز کا ارادہ کرے اور اس کو چاہے تو ہم بھی اسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں اور اسی کو چاہتے ہیں۔ کیونکہ خداوندعالم کا ارشاد ہے: ”تم نہیں چاہتے مگر وھی چیز جس کا خدا ارادہ کرے“۔[کمال الدین، ج 2، ص 511، ح 42]امام زمانہ علیہ السلام اس کلام میں ”مقصِّرہ“ و ”مفوِّضہ“ کی تردیدکرتے ہوئے کامل بن ابراھیم سے خطاب فرماتے ہیں:”وہ لوگ جھوٹ کہتے ہیں، بلکہ ہمارے دل رضائے الٰہی کے ظرف ہیں، جو وہ چاہتا ہے ہم بھی وھی چاہتے ہیں، اور ہم رضائے الٰہی کے مقابل مستقل طور پر کوئی ارادہ نہیں کرتے“۔

 امام کا دائمی وجود
06/26/2019 - 22:12

اٴَنَّ الْاٴَرْضَ لاٰ تَخْلُو مِنْ حُجَّةٍ ،إِمّٰا ظٰاهِراً وَ إِمّٰا مَغْمُوراً؛”بے شک زمین کبھی بھی حجت خدا سے خالی نہیں رہے گی، چاہے وہ حجت ظاہر ہو یا پردہ غیب میں“۔[الخرائج والجرائح،ج 3، ص 1110، ح26۔]یہ حدیث امام مھدی علیہ السلام کی اس توقیع کا ایک حصہ ہے جو آپ نے عثمان بن سعید عمری اور ان کے فرزند محمد کے لئے تحریر فرمائی ہے۔امام علیہ السلام بہت زیادہ تاکید کے بعد ایک مطلب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: روئے زمین پر ہمیشہ حجت خدا کا ہونا ضروری ہے اور کبھی بھی کسی ایسے لمحہ کا تصور نہیں کیا جاسکتا جو امام معصوم کے وجود سے خالی ہو۔

 علم امام کی قسمیں
06/26/2019 - 13:38

عِلْمُنٰا عَلیٰ ثَلاٰثَهِ اٴَوْجُهٍ: مٰاضٍ وَغٰابِرٍ وَحٰادِثٍ، اٴَمَّا الْمٰاضِي فَتَفْسیرٌ، وَ اٴَمَّا الْغٰابِرُ فَموْ قُوفٌ، وَ اٴَمَّا الْحٰادِثُفَقَذْفٌ في الْقُلُوبِ، وَ نَقْرُ في الْاٴَسْمٰاعِ، وَهُوَ اٴَفْضَلُ عِلْمِنٰا، وَ لاٰ نَبيَّ بَعْدَ نَبِیِّنٰا؛ہم (اہل بیت) کے علم کی تین قسمیں ہوتی ہیں: گزشتہ کا علم، آئندہ کا علم اور حادث کا علم۔ گزشتہ کا علم تفسیر ہوتا ہے، آئندہ کا علم موقوف ہوتا ہے اور حادث کا علم دلوں میں بہر ا جاتا اور کانوں میں زمزمہ ہوتا ہے۔ علم کا یہ حصہ ہمارا بہترین علم ہے اور ہمارے پیغمبر (ص) کے بعد کوئی دوسرا رسول نہیں آئے گا“۔[مدینة المعاجز، ج 8، ص 105، ح 2720۔]یہ الفاظ امام زمانہ علیہ السلام کے اس جواب کا ایک حصہ ہیں جس میں علی بن محمد سمری (علیہ الرحمہ) نے علم امام کے متعلق سوال کیا تھا۔

فلسفہ امامت
06/26/2019 - 13:31

اٴَوَ مٰا رَاٴَیْتُمْ كَیْفَ جَعَلَ اللهُ لَكُمْ مَعٰاقِلَ تَاٴوُونَ إِلَیْهٰا، وَ اٴَعْلاٰماً تَهْتَدُونَ بِهٰا مِنْ لَدُنْ آدَمَ (علیه السلام)؛”کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خداوندعالم نے کس طرح تمھارے لئے پناہ گاھیں قرار دی ہیں تاکہ ان میں پناہ حاصل کرو، اور ایسی نشانیاں قرار دی ہیں جن کے ذریعہ ہدایت حاصل کرو، حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ سے آج تک۔[بحار الانوار، ج 53، ص 179، ح 9۔]یہ تحریر اس توقیع کا ایک حصہ ہے جس کو ابن ابی غانم قزوینی اور بعض شیعوں کے درمیان ہونے والے اختلاف کی وجہ سے امام علیہ السلام نے تحریر فرمایا ہے، ابن ابی غانم کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے کسی کو اپنا جانشین مقرر نہیں کیاہے، اور سلسلہ امامت آپ ھی پر ختم ہوگیا ہے۔ شیعوں کی ایک جماعت نے حضرت امام مھدی علیہ السلام کو خط لکھا جس میں واقعہ کی تفصیل لکھی، جس کے جواب میں حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی طرف سے ایک خط آیا، مذکورہ حدیث اسی خط کا ایک حصہ ہے۔

صفحات

Subscribe to عقاید
www.welayatnet.com
Online: 47